’ہیڈلی اپنا موقف بدلنے کو ہیں‘

عدالتی کارروائی کا خاکہ
Image caption مسٹر ہیڈلی کے وکیل کے بارے میں خبر رساں اداے اے پی نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل اور قانونی ٹیم ’حکومت سے مذاکرات‘ کر رہے ہیں۔

امریکہ میں اہلکاروں کا کہنا ہے کہ امریکی شہری ڈیوڈ ہیڈلی جن پر سنہ دو ہزار آٹھ میں ممبئی حملوں کے اہداف تیار کرنے کا الزام ہے، کچھ الزامات پر اپنا موقف تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

ڈیوڈ ہیڈلی نے ابتدا میں بھارت میں عوامی مقامات کو بموں سے اڑانے کے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ڈینمارک کے اس اخبار پر حملہ کرنے کی سازش کی تھی جس نے سنہ دو ہزار پانچ میں پیغمبرِ اسلام کے متنازع خاکے شائع کیے تھے۔

عدالت نے یہ تفصیل نہیں بتائی کہ مسٹر ہیڈلی جمعرات کو کیا کہیں گے۔

مسٹر ہیڈلی کے وکیل کے بارے میں خبر رساں اداے اے پی نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل اور قانونی ٹیم ’حکومت سے مذاکرات‘ کر رہے ہیں۔

استغاثے کے مطابق مسٹر ہیڈلی نے خفیہ معلومات جمع کرنے کی غرض سے بھارت اور ڈینمارک کے کئی دورے کیے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق انھوں نے پاکستان میں شدت پسند گروہ لشکرِ طیبہ کے ان افراد کو جن کے ساتھ وہ رابطے میں تھے، معلومات پہنچائیں۔

لشکرِ طیبہ کشمیر میں بھارتی کنٹرول کے خلاف مصروفِ جنگ ہے جسے گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں امریکہ پر ہونے والے حملوں کے بعد پاکستان پر دباؤ بڑھنے کے نتیجے میں جنوری سنہ دو ہزار دو میں کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔

مسٹر ہیڈلی کو اکتوبر میں شکاگو میں ایف بی آئی کے اہلکاروں نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ فلاڈیلفیا جانے کے لیے جہاز پر سوار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

امریکی استغاثے نے نومبر سنہ دوہزار نو میں ممبئی میں شدت پسند حملوں اور ڈینمارک کے ایک اخبار پر حملوں کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں لشکرِ طیبہ کے الیاس کاشمیری اور پاکستانی فوج کے سابق میجر عبدالرحمٰن سمیت دو پاکستانی نژاد امریکی رہائشیوں، تہور رانا اور ڈیوڈ کولمن ہیڈلی عرف داؤد گیلانی پر فرد جرم عائد کی تھی۔

یہ فرد جرم شکاگو کی ایک عدالت میں جیوری کے سامنے عائد کی گئی۔ ہیڈلی اور رانا دونوں پہلے ہی حراست میں ہیں اور ان کے وکلاء نے الزامات کی تردید کی ہے۔

اس سے قبل حکام نے صرف ہیڈلی اور رانا پر ممبئی حملوں کی سازش میں ملوث ہونے کی فرد جرم عائد کی تھی۔ ممبئی حملوں میں چھ امریکیوں سمیت کم از کم ایک سو ستر افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ سینکڑوں دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

امریکی اہلکاروں نے یہ بھی کہا کہ ایک ریٹائر پاکستانی فوجی میجر عبدالرحمٰن ہاشم سید بھی ڈینمارک کے اخبار پر حملے کی سازش میں ملوث تھے۔

انچاس برس کے ہیڈلی نے سن دوہزار چھ میں داؤد گیلانی سے اپنا نام بدل کر ڈیوڈ کولمن ہیڈلی رکھ لیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ داؤد گیلانی نے نام اس لیے تبدیل کیا تھا تاکہ اس کو ہندوستان میں خود کو امریکی کے طور پر پیش کر سکیں۔

اسی بارے میں