طالبان اور انٹرنیٹ

جب انیس سو چھیانوے سے لے کر دو ہزار ایک تک افغانستان پر طالبان کی حکمرانی تھی تو اس وقت انہوں نے انٹرنیٹ پر یہ کہتے ہوئے مکمل پابندی لگا دی تھی کہ یہ غیر اخلاقی اور غیر اسلامی ہے۔

Image caption طالبان نے افغانستان کے شہر خوست میں سی آئی کے اڈے پر خودکش حملہ کرنے والے اردنی باشندے کی ویڈیو فٹیج جاری کی تھی

لیکن طالبان اقتدار کے خاتمے کے آٹھ سال کے بعد مزاحمت کاروں کے لیے انٹرنیٹ ہی افغانستان کے عوام کے دل اور دماغ جیتنے کی جنگ میں سب سے اہم پلیٹ فارم بن گیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان میں طالبان کے خلاف بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ طالبان نے بھی عوامی حمایت حاصل کرنے اور مقامی حکومتوں اور ان کے بین الاقوامی اتحادیوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال بڑھا دیا ہے۔

طالبان بڑی کامیابی سے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ اور انہوں نے ’ورچول پناہ گاہیں‘ بنا رکھیں ہیں۔‘

ان کی عربی، انگریزی، دری، پشتو اور اردو پر مشتمل ویب سائٹس، العمرہ اور شاہامت، میں میدانِ جنگ کی خبریں باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کی جاتی ہیں۔

ان ویب سائٹس پر طالبان رہنماؤں کے انٹرویو بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ پروپیگنڈا ویڈیوز، کمنٹریاں اور سرکاری بیانات شائع کیے جاتے ہیں۔

ایسے لگتا ہے کہ وہ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا پر انحصار کم کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ طالبان اپنا مواد کئی دوسری ’آزاد‘ ویب سائٹس کو بھی بھیجتے ہیں تاکہ ویب سائٹس دیکھنے والوں کے لیے ان کی کارروائیاں زیادہ قابلِ قبول دکھائی دیں۔

طالبان ای میلز کے ذریعے پریس ریلیز جاری کرتے ہیں، مقامی اور غیر ملکی صحافیوں کو اپنی کارروائیوں سے آگاہ کرتے ہیں اور واقعات کے متعلق اپنا موقف پیش کرتے ہیں۔

درحقیقت طالبان کسی بھی واقعے کے متعلق معلومات جاری کرنے کے حوالے سے افغان حکومت اور اس کے غیر ملکی اتحادیوں سے زیادہ تیز ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی کے داخلی سلامتی کے مشیر معصوم ستانکزئی کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ کا سب سے اہم استعمال جو طالبان کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ میڈیا کو ای میل کے ذریعے پیغامات بھیجتے ہیں۔

’اس طرح ان کو روزانہ کی خبروں اور تجزیوں میں جگہ مل جاتی ہے اور اسی لیے وہ انٹرنیٹ کا استعمال بڑی مہارت سے کرتے ہیں۔‘

طالبان کا بنیادی نشانہ پڑھے لکھے لوگ ہیں جن کی انٹرنیٹ تک رسائی ہوتی ہے اور وہ کمیونٹی میں زیادہ اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان سے متعلق امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک کے سینیئر مشیر وکرم سنگھ کے خیال میں طالبان مغربی اور افغانستان اور پاکستان سے باہر موجود سامعین کے لیے انٹرنیٹ استعمال کرنے سے آگے نکل گئے ہیں اور اب وہ اس سے فنڈز اکٹھے کرنے، نئے لوگ بھرتی کرنے اور دوسرے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’انٹرنیٹ طالبان کی حکمتِ عملی کا ایک اہم جزو ہے اور اسکا استعمال بڑھ رہا ہے۔‘

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مئی کے آخر تک انٹرنیٹ سینسرشپ کے لے ضروری آلات حاصل کر لیں گے۔

وزارتِ اطلاعات اور ٹیکنالوجی کے ترجمان عبدالقادر قلاتوال کہتے ہیں کہ ’جو ویب سائٹس تشدد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں، پورنوگرافی یا جوئے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں، ان کو بلاک کر دیا جائے گا۔‘

افغان حکومت اور اس کے اتحادیوں نے طالبان پروپیگنڈا کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف ریڈیو اور ٹی وی پر توجہ دی تھی۔ لیکن افغانستان میں انٹرنیٹ کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگلے تین سالوں میں پچاس فیصد کے قریب افغان عوام کی رسائی انٹرنیٹ تک ہو جائے گی۔

اسی بارے میں