ممبئی حملے: ڈیوڈ ہیڈلے نے اعترافِ جرم کر لیا

امریکی شہری داؤد گیلانی عرف ڈیوڈ ہیڈلے نے شکاگو کی ایک عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ انہوں نے ممبئی میں ہونے والے حملوں کے لیے ان جگہوں کے متعلق معلومات حاصل کی تھیں جنہیں منصوبے کے تحت نشانہ بنایا جانا تھا۔

ڈیوڈ ہیڈلے
Image caption ڈیوڈ ہیڈلے نے اپنا زیادہ تر بچپن پاکستان میں گزارہ ہے اور ان کا پہلے نام داؤد گیلانی تھا

انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ ڈینمارک کے اس اخبار پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے جس نے پیغمبرِ اسلام کے متعلق کارٹون شائع کر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا تھا۔

اس سے پہلے 49 سالہ ہیڈلے نے اپنے اوپر لگائے گئے انہی الزامات سے انکار کیا تھا جب ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی لیکن بعد میں وہ اس شرط پر اقرار جرم کرنے پر راضی ہوئے کہ انہیں ایسا کرنے پر نہ تو سزائے موت دی جائے گی اور نہ ہی بھارت، پاکستان یا ڈینمارک کے حوالے کیا جائے گا۔

اپنا بیان بدل بدلنے کے بعد انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے بارہ الزامات تسلیم کیے ہیں۔

اس طرح استغاثہ اب زیادہ سخت سزا کی اپیل نہیں کرے گا لیکن امریکی ڈسٹرکٹ عدالت کے جج ہیری لینن ویبر کا کہنا ہے کہ ہیڈلے کو اب بھی عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا کہ ہمارے پاس اس مقدمے میں نہ صرف اب اقبالِ جرم آ گیا ہے بلکہ ڈیوڈ ہیڈلے اب دہشت گردانہ کارروائیوں کے متعلق بہت کارآمد خفیہ معلومات بھی مہیا کر رہے ہیں۔

پروسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیڈلے نے اہداف کی جاسوسی کے لیے انڈیا اور ڈینمارک کے کئی دورے کیے تھے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق انہوں نے اکٹھی کی گئی معلومات پاکستان میں مقیم اسلامی شدت پسند تنظیم لشکرِ طیبہ کے رابطہ کاروں کے حوالے کی تھیں۔ لشکرِ طیبہ پر الزام ہے کہ ممبئی پر حملوں کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا۔

ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں لشکر طیبہ کے ایک کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی سمیت کئی ملزمان پاکستان میں گرفتار ہوئے ہیں جن پر انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں مقدمہ بھی چل رہا ہے۔

ہیڈلے کو اکتوبر میں ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے شکاگو سے فلاڈیلفیا کے لیے جہاز پر سوار ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

انہوں نے مبینہ طور پر تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ وہ دو ہزار دو سے لشکرِ طیبہ کے ساتھ منسلک ہیں۔ ہیڈلے نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے اندر لشکرِ طیبہ سے تربیت حاصل کی ہے۔

ابتدائی طور پر ان پر ڈینمارک کے اخبار جلینڈز پوسٹن پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا تھا۔

اسی مقدمے میں ایک اور پاکستانی نژاد کینیڈین شہری طواہر حسین رانا بھی ہیڈلے کے شریک ملزم ہیں جبکہ ڈنمارک کے اخبار پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں ہیڈلی کے دو ساتھی ملزمان اب بھی امریکہ کو مطلوب ہیں جن میں پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ میجر سید عبدالرحمن ہاشم اور پاکستانی شدت پسند الیاس کشمیری شامل ہیں۔

ہیڈلے کے باپ کا تعلق پاکستان سے تھا جبکہ ان کی ماں امریکی ہیں۔ ان کا پہلے نام داؤد گیلانی تھا۔ سنہ دو ہزار چھ میں انہوں نے اسے بدل کر ڈیوڈ ہیڈلے رکھ لیا تھا۔ تفتیش کاروں کے مطابق اس کا مشورہ انہیں لشکرِ طیبہ نے دیا تھا تاکہ انہیں انڈیا میں جاسوسی کی ذمہ داریاں نبھانے میں آسانی ہو سکے۔

اسی بارے میں