اسرائیلی طیاروں کی غزہ پر بمباری

فلسطینی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں کم از کم تین ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

غزہ پر بمباری
Image caption غزہ میں ایک ورکشاپ پر اسرائیلی طیاروں نے دو میزائل پھینکے

یہ بمباری جنوبی اسرائیل میں فلسطینی شدت پسندوں کی طرف سے کیے گئے راکٹ حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔

ابھی تک ایسی کوئی اطلاع نہیں آئی کہ اسرائیلی بمباری میں کوئی ہلاک یا زخمی ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر میں ایک ورکشاپ اور مصر کی سرحد کے قریب علاقے کو نشانہ بنایا ہے۔

اس سے قبل فلسطینی راکٹ حملے میں اسرائیلی فارم پر کام کرنے والا ایک تھائی باشندہ ہلاک ہو گیا تھا۔ یہ گزشتہ سال اسرائیل کے غزہ پر حملے کے بعد فلسطینی علاقے سے کیا گیا پہلا راکٹ حملہ ہے۔

دو فلسطینی گروہوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے فلسطینیوں سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے ’اعتماد کی بحالی کے اقدامات‘ کی تجویز پیش کی ہے۔

انہوں نے ان اقدامات کا ذکر ٹیلی فون پر امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن سے ماسکو میں بات کرتے ہوئے کیا۔ ابھی تک ان کی تجویز کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔

وزیرِ اعظم کے دفتر سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات خطے میں امن کی امریکی کوششوں کی مدد کے لیے حقیقی کوشش ہیں۔

گزشتہ ہفتے واشنگٹن نے مشرقی یروشلم میں نئے گھروں کی تعمیر کے منصوبے کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم کے سامنے کئی مطالبات رکھے تھے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کی پیشکش اس وقت سامنے آئی ہے جب ہلری کلنٹن ماسکو میں امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کے درمیان مشرقِ وسطیٰ سے متعلق ہونے والے اجلاس میں شرکت کر رہی ہیں۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاورو نے کہا ہے کہ اجلاس کے مندوبین امن کے عمل میں حالیہ خطرناک تعطل کو ختم کرنے کے لیے راہ تلاش کریں گے۔

اس سے قبل بدھ کو اسرائیل کے وزیر خارجہ ایوگ دور لیبرمین نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں میں توسیع بند کرنے کے مطالبے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ اس پر تنقید بلا وجہ ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب اسرائیل پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں یہودیوں کے لیے مزید غیرقانونی رہائشی منصوبے شروع نہ کرے۔

اسی بارے میں