فاشزم مخالف کارکن پر مقدمہ

برطانوی شہر بولٹن میں پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں کے بعد ایک فاشزم مخالف کارکن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرے کے دوران چوہتر افراد کو گرفتار کیا گیا

فاشزم مخالف تنظیم یونائٹ اگینسٹ فاشزم (یو اے ایف) کے تقریباً ڈیڑھ ہزار کارکن اور انگلش ڈیفنس لیگ (ای ڈی ایل) کے لگ بھگ دو ہزار حامی سنیچر کے روز شہر کے وکٹوریہ سکوائر پر اکٹھے ہوئے تھے۔

ای ڈی ایل کا کہنا ہے کہ وہ متشدد اسلام اور شرعی قانون کے خلاف ہے۔ دوسری طرف یو اے ایف نے اس پر انتہائی دائین بازو کی تنظیم ہونے کا الزام عائد کیا۔

بعد میں پولیس نے یو اے ایف کے جوائٹ سیکریٹری ویمن بینیٹ کے خلاف متشدد نقص امن کی منصوبہ بندی کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرے کے دوران چوہتر افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ کئی دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کی حراست سے رہائی کے بعد ویمن بینیٹ نے کہا کہ پولیس نے انہیں اس وقت دبوچ لیا جب وہ پرامن طور پر احتجاج کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے دو سو سے زائد مظاہروں میں حصہ لیا ہے اور انہیں کبھی بھی گرفتار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف کوئی شہادت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاشزم مخالف کارکنوں جح ساتھ پولیس کا رویہ مناسب نہیں تھا جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

اس سے پہلے اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل گیری شیون نے کہا کہ گرفتاریاں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ مظاہرہ پرامن نہیں تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قانون شکن عناصر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے نشاندہی کی جائے گی اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔