’صحت کی اصلاحات پر ووٹ تاریخی ہو گا‘

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اتوار کو کانگریس میں صحت سے متعلق اصلاحات کے بل پر ووٹنگ ملک کی ایک صدی کی جدوجہد میں ایک تاریخی لمحہ ہو گا۔

Image caption صحت سے متعلق اصلاحات کا اب ہی وقت ہے: اوباما

ورجینیا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بل پر ریپبلیکنز اور چند ایک ڈیموکریٹس کے اعتراضات مسترد کر دیے۔

قانون سازوں اور عام شہریوں سے بل کی حمایت میں اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اصلاحات کا اب ہی وقت ہے۔‘

اس بل کو سینٹ نے گذشتہ برس منظور کیا تھا اور ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ انہیں ایوانِ نمائندگان سے بھی اتنے ووٹ مل جائیں کہ وہ سینیٹ کی طرح اسے منظور کرانے میں کامیاب ہو جائیں۔

ورجینیا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارک مارڈل کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کی تقریر بڑی دھواں دھار تھی لیکن پھر بھی لگتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی ہوا نکل چکی ہے، اور ان میں لوگوں کو بل کی حمایت میں ترغیب دینے کی خواہش نظر نہیں آتی۔

ہیلتھ کیئر میں اصلاحات صدر اوباما کی داخلی ترجیحات میں سے سب سے بڑی ترجیح ہے جس کے تحت وہ ان تیس ملین امریکیوں کو میڈیکل انشورنس کی سہولت مہیا کرنا چاہتے ہیں جن کے پاس اب تک یہ سہولت نہیں ہے۔

انہوں نے اب تک اس بل پر ہونے والی ساری ’لڑائی‘ کو ’گندی‘، ’حوصلہ شکن‘ اور ’بیہودہ‘ کہتے ہوئے کہا کہ حتمی تجویز ایک سالہ انتھک مباحثوں کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے جارج میسن یونیورسٹی کے طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں سب دلائل پیش کیے گئے۔

’ہم نے ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز کے سب سے بہتر مشوروں کو حتمی تجویز میں شامل کیا ہے۔‘

ہیلتھ کیئرسےمتعلق قانون سازی صدر براک اوباما کی خواہش رہی ہے لیکن اُسے ریپبلیکز کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔

کانگریس کے بجٹ آفس کے مطابق مجوزہ بل پر دس سال میں نو سو چالیس بلین ڈالر لاگت آئے گی۔

اسی بارے میں