ایران نشریات میں خلل ڈالنا چھوڑ دے

یورپی یونین نے ایران سے کہا ہے کہ وہ یورپی سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں کی نشریات میں خلل ڈالنے سے گریز کرے اور اگر ایسا نہ ہوا تو وہ جوابی اقدامات پر غور کر سکتی ہے۔

پیر کو بیلجیئم کے شہر برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس خلل ڈالنے کی کوشش کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

ایرانی حکومت غیر ملکی نشریاتی اداروں پر مسلسل مقامی مسائل کو ابھارنے کا الزام عائد کرتی ہے اور اسی وجہ سے وہ گزشتہ برس کے اواخر سے ان نشریات کو روکنے کے انتظامات کر رہی ہے۔

ان انتظامات کی وجہ سے جہاں بی بی سی اور ڈوئچے ویلے جیسے نشریاتی اداروں کی نشریات متاثر ہوئی ہیں وہیں ایرانی عوام کو انٹرنیٹ تک رسائی میں بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یورپی یونین ایرانی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ سیٹلائٹ نشریات کی بندش اور انٹرنیٹ سنسر شپ بند کرے اور برقی مداخلت کا یہ سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے‘۔ وزرائے خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ’یورپی یونین ان معاملات پر نظر رکھنے میں سنجیدہ ہے اور ان ناقابلِ قبول حالات کا خاتمہ چاہتی ہے‘۔

یورپی یونین کے مطابق اگر ایران نشریات میں خلل ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھتا ہے تو اس پر یہ پابندی لگائی جا سکتی ہے کہ وہ پریس ٹی وی سمیت اپنے بین الاقوامی چینلز اور پروگراموں کو نشر کرنے کے لیے وہ سیٹلائٹ استعمال نہیں کر سکتا جو کہ باقی نشریاتی ادارے کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی زیر غور ہے کہ نوکیا اور سیمنز جیسی کمپنیوں کو ایسے سنسر آلات ایران کو فروخت کرنے پر پابندی لگا دی جائے جن کی مدد سے وہ غیر ملکی چینلوں کی نشریات روک سکتا ہے۔

اسی بارے میں