برطانیہ: کلسٹر بموں پر پابندی

برطانوی دارالعوام نے ایک قانون پاس کیا ہے جس کی رو سے برطانوی افواج کے کلسٹر بم استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

کلسٹر بموں سے زخمی یا اپاہج بننے والوں میں ساٹھ فیصد عام شہری ہوتے ہیں

برطانیہ نے سن دو ہزار آٹھ میں ایک بین الاقوامی کنونشن پر دستخط کیے تھے جس کی رو سے کلسٹر بموں کا استعمال غیر قانونی ہے۔

برطانوی حکومت نے فوج سے کلسٹر بم مئی دو ہزار آٹھ میں واپس لے لیے تھے اور ان کو سن دو ہزار تیرہ تک تلف کیا جانا ہے۔

کلسٹر بموں کو دوسری عالمی جنگ میں تیار کیا گیا تھا۔ یہ چھوٹے چھوٹے بموں پر مشتمل ہوتے ہیں اور ایک وسیع علاقے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

منگل کے روز برطانوی دارالعوام سے پاس کیے جانے والے کلسٹر میونیشنز بِل کو تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔ برطانوی دارالامراء یا ہاؤس کا لارڈز پہلے ہی اس بِل کو منظور کر چکا ہے۔ اب قانون کے اس مسودے کو ملکہِ برطانیہ کی حتمی منطوری کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔

کلسٹر بموں کے خول میں رکھے گئے درجنوں (اور بعض اوقات سینکڑوں) چھوٹے چھوٹے بم ایک وسیع علاقے پر پھیل جاتے ہیں اور اس وقت تک نہیں پھٹتے جب تک یہ کسی گاڑی سے نہیں ٹکراتے یا ان کو کوئی بڑا یا بچہ نہیں ہاتھ لگاتا۔

فارن آفس کے وزیر کرس برائنٹ کا کہنا ہے کہ کلسٹر بموں کی تباہ کاریاں کے احساس سے ہی سیاسی فضا تبدیل ہوئی اور اس پر پابندی کے لیے راہ ہموار ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کلسٹر بموں کا نشانہ بننے والوں میں ایک تہائی بچے ہوئے ہیں جبکہ اس سے زخمی یا اپاہج بننے والوں میں ساٹھ فیصد عام شہری ہوتے ہیں۔

وہ ملک جنہوں نے ابھی تک کلسٹر بموں پر پابندی سے متعلق بین الاقوامی کنونشن پر دستخط نہیں کیے ان میں امریکہ، روس، چین، پاکستان اور اسرائیل شامل ہیں۔

اسی بارے میں