یروشلم میں بستیاں تعمیر ہوں گی: اسرائیل

اسرائیلی وزیر بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ ان کا ملک یروشلم میں بستیاں تعمیر کرنے کے حق سے دستبردار نہیں ہو گا۔

اسرائیل اور امریکہ کے رشتوں کو تاریخی کشیدگی کا سامنا ہے

واشنگٹن میں اسرائیل کی حامی ایک بااثر تنظیم امریکن اسرائیلی پبلک افئیرز کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یروشلم ایک بستی نہیں اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔

تاہم انہوں نے اپنی تقریر میں مشرقی یروشلم میں سولہ سو متنازع یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کا ذکر نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ بستیوں کی تعمیر مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کے حل کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ فلسطینی اچھے ہمسائیوں کی طرح آزادانہ زندگی بسر کریں۔

مسٹر نیتن یاہو نے فلسطینی رہنماء محمود عباس کو دعوت دی کہ وہ آئیں اور امن کے حصول کے لیے بات چیت کریں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے مدد کر سکتا ہے لیکن امن کو باہر سے نہیں تھونپا جا سکتا۔

اس سے پہلے امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری نے اسی تنظیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اسرائیل مشرق وسطی میں امن چاہتا ہے تو اسے ایک’مشکل مگر ضروری چناؤ‘ کرنا ہوگا۔

اس تقریر میں ہلیری کلنٹن یہ کہیں گی کہ فلسطینیوں کے لیے موجودہ صورتحال ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے اور حالات کا جوں کا توں رہنا پائیدار امن کے لیے صحیح نہیں اور اس سے صرف تشدد کو ہی ہوا ملے گی۔

وہ کہیں گی کہ ’اس کے علاوہ بھی ایک راستہ ہے جو علاقے کے لوگوں کی سکیورٹی اور خوشحالی کی جانب جاتا ہے لیکن اس کے لیے اسرائیل سمیت تمام فریقوں کو مشکل مگر ضروری فیصلے کرنا پڑیں گے‘۔

تاہم اس تقریر میں زور دے کر یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیر کے سوال پر اسرائیل سے نااتفاقی کے باوجود امریکہ اسرائیل کی سلامتی کی مکمل حمایت کرتا رہے گا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اقتباسات کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ کہیں گی کہ ’اسرائیل کے تحفظ کی ضمانت میرے لیے ایک پالیسی پوزیشن سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ذاتی وعدہ ہے کہ یہ(تحفظ) کبھی ختم نہیں ہوگا۔ تاہم یہ امریکی کی ذمہ داری ہے کہ وہ جہاں ضروری ہے وہاں کریڈٹ دے اور جہاں سچ بولنا ضروری ہو وہاں سچ بولے‘۔

فلسطینی انتظامیہ نے اسرائیل کے مقبوضہ زمین پر یہودی بستیاں تعمیر کرنے کے اصرار پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک سال سے زائد عرصے سے تعطل کا شکار رہنے والے امن مذاکرات کی بحالی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ میں اسرائیل کے سفیر نے حال میں متنبہ کیا تھا کہ امریکہ کے نائب صدر جو بائڈین کے اسرائیل کے دورے کے دوران یہودی بستیوں کی تعمیر میں توسیع کے اعلان سے دونوں ملکوں کے تعلقات شدید بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔

اسرائیل کے مشرقی یروشلم میں سولہ سو نئے گھر تعمیر کرنے کے منصوبے کے اعلان سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی فضا پیدا ہوئی تھی جس کے بعد اقوام ِمتحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر غیر قانونی ہے اور یہ تعمیرات روک دی جائیں۔

تقریباً پانچ لاکھ یہودی ان سو بستیوں میں آباد ہیں جنہیں اسرائیل نے انیس سو سڑسٹھ میں غربِ اردن اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد تعمیر کیا تھا۔ بین الاقوامی قانون کے تحت ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں