’ایک دن بادشاہت واپس آئے گی۔۔۔‘

نیپال کے راجہ گیانیندر نے امید ظاہر کی ہے کہ ملک میں صدیوں پرانی ہندو بادشاہت ایک نہ ایک دن ضرور واپس آئے گی۔

راجہ گیانیندر
Image caption گیانیندر نے سنہ دو ہزار ایک ميں اس وقت تخت سمبھالا تھا جب ان کے بھتیجے دیپیندر نے تقریبا سبھی رشتے داروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا اور پھر خود کو بھی گولی مار لی تھی

دو ہزار آٹھ میں نیپال میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد گیانیندر کو بادشاہ کے تخت سے ہٹا دیا گیا تھا لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر یقین نہيں کرتے کہ بادشاہت ختم ہوگئی ہے۔

بی بی سی کے نیپال میں موجود نامہ نگار کے مطابق عوام سابق بادشاہ کے خیالات کو سنجیدگی سے نہيں لیں گے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس بات کی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ گیانیندر واپس لوٹ سکتے ہيں لیکن تقریبا سبھی سیاسی پارٹیوں نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

بدھ کو نیپال کے ایک ٹی وی چینل ایونیوز ٹی وی پر سابق راجہ نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ’مجھے نہيں لگتا کہ بادشاہت کا خاتمہ ہوگیا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا ’تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بادشاہت میں اتار اور چڑھاؤ آتے رہتے ہيں لیکن میں وہيں کروں گا جو عوام چاہتے ہيں۔‘

گیانیندر نے سنہ دو ہزار ایک ميں اس وقت تخت سمبھالا تھا جب ان کے بھتیجے دیپیندر نے تقریبا سبھی رشتے داروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا اور پھر خود کو بھی گولی مار لی تھی۔

گیانیندر کی شہرت اس وقت کم ہوگئی جب سنہ دو ہزار پانچ ميں انہوں نے حکومت سے اقتدار اپنے ہاتھوں ميں لے لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اہم سیاسی پارٹیاں ماؤنواز باغیوں سے نمٹنے میں ناکام ہیں۔

لیکن گیانیندر کے اس قدم کے سبب عوام میں کافی ناراضگی پھیل گئی اور بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوگئے اور پارلیمان بحال کرنے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔

مئی دو ہزار آٹھ ميں ماؤنوازوں کو عام انتخابات ميں کامیابی حاصل ہوئی اور نیپال ایک رپبلک ملک قرار دیا گیا جس سے ملک میں 240 پرانی ہندو بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا۔

اسی بارے میں