قزاقوں سے بچاؤ، نجی گارڈز پر غور

صومالیہ کے قریب ایک مبینہ بحری قزاق کی بحری جہاز پر موجود نجی سکیورٹی کمپنی کے اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد قزاقوں کے خلاف نجی سکیورٹی کمپنیوں کا کردار غور طلب ہے۔

یہ پہلا واقعہ ہے جس میں جہاز پر موجود نجی سکیورٹی کمپنی کے اہلکاروں نے جہاز کو اغوا ہونے سے بچایا ہو۔ تاہم کئی تنظیمیں بشمول انٹرنیشنل میریٹائم بیورو نے ماضی میں نجی کمپنیوں کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

بیورو کے ڈائریکٹر کیپٹن پوٹنگل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جہازوں کے مالکان اپنے جہازوں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم اصولی طور پر جہاز پر نجی سکیورٹی کمپنیوں کے اہلکاروں کی موجودگی کے خلاف ہیں۔ فائرنگ کے تبادلے کے لیے جہاز موزوں ترین جگہ نہیں ہے۔‘

ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ جہز پر سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی سے قزاق مزید قوت استعمال کریں گے۔

صومالیہ کے سمندر میں درجنوں جنگی جہاز موجود ہیں تاہم اس کے باوجود قزاقوں کی کارروائیوں میں کمی نہیں آئی ہے۔

مرچنٹ میریٹائم ویلفیئر سینٹر کے چیف ایگزیکٹو نِک ڈیوس کا کہنا ہے ’بحری فوجیں ہر وقت ہر جگہ موجود نہیں ہو سکتی ہیں۔ بحرہ ہند کا تقریباً پانچ ملین مربع ناٹاکل میل کا علاقہ خطرناک ہے۔‘

بحری صنعت ابھی تک جہازوں پر سکیورٹی گارڈ رکھنے کی مخالفت کر رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کچھ ممالک میں ان جہازوں کو اجازت نہیں ملے گی جن پر سکیورٹی گارڈ تعینات ہیں۔ اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ گارڈز کی تعیناتی سے انشورنس کی مد میں اخراجات کا اضافہ بھی ہو جائے گا۔

ایک سکیورٹی کمپنی کے ڈائریکٹر کرٹوفر لیجر کا کہنا ہے کہ جہاز پر گارڈز تعینات کرنے ضروری نہیں ہیں بلکہ جہاز کے مالکان دوسرے حربے بھی استعمال کر سکتے ہیں جیسے کہ عملے کو تربیت اور ایسے آلات نصب کرنا جن سے قزاقوں کو جہاز پر سوار ہونے میں دقت ہو۔

’گارڈز کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کو جہاز کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہوتی۔ زیادہ تر سکیورٹی گارڈز عراق اور افغانستان میں جنگ لڑ چکے ہوتے ہیں۔ ان کی نرخ بہت زیادہ ہوتے ہیں اور عملے کو ان کو جہاز پر چڑھانے اور اس سے اتارنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

بین الاقوامی قانونی فرم انس اینڈ کو کے وکیل سٹیفن ایسکنز کا کہنا ہے ’بحری صنعت نجی گارڈز کی تعیناتی کے خلاف ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس جہاز پر گارڈز تعینات ہوں وہ جہاز قزاقوں سے محفوظ رہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ زیادہ تر سکیورٹی کمپنیوں نے عراق اور افغانستان کے بعد میریٹائم صنعت کا رخ کیا ہے کیونکہ یہ ایک منافع بخش صنعت ہے۔ ’جو کمپنیاں اپنی خدمات پیش کر رہی ہیں ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے اس لیے یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ کون سے کمپنی اچھی ہے اور کون سے نہیں۔‘

اسی بارے میں