’کامیابی کے لیے پاکستان کے ساتھ پارٹنرشپ ضروری ہے‘

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ پاکستان اور اس کے عوام کے ساتھ پارٹنر شپ ضروری ہے کیونکہ افغان سرحد کے دونوں جانب کامیاب ہوئے بغیر شدت پسندوں کا خاتمہ اور امن کو فروع نہیں دیا جا سکتا ہے۔

صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکی صدر کا افغانستان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔ امریکہ سے روانگی سے لیکر افغانستان میں اترتے وقت تک ان کے اس دورے کو انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچنے پر انہوں نے صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ تاہم گڈ گورننس، منشیات اور کرپشن کے خلاف مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ انھوں نے مزید بات چیت کے لیے صدر کرزئی کو مئی میں واشنگٹن آنے کی دعوت دی ہے۔

صدر اوباما افغانستان کے دورے پر: تصاویر

توقع سے زیادہ پیش رفت ہوئی: قریشی

امن منصوبے پر حکمت حار کے وفت کی کرزئی سے بات چیت

صدر کرزئی نے اس موقع پر امید ظاہر کہ افغانستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط تعلقات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔

صرد حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد وہ افغانستان میں قائم گبرام فوجی اڈے پر امریکی فوجیوں سے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا ’افغانستنان میں ہمارا مشن بہت واضح ہے۔ ہم القاعدہ اور اس کے شدت پسند اتحادیوں کو تباہ و برباد کر دیں گے اور یہی ہمار مشن ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے افغانستان میں بھی ہمارے اہداف بالکل واضح ہیں۔ ہم یہاں القاعدہ کو محفوظ پناہ گاہ بنانے نہیں دیں گے۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ افغانستان میں القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست دینے کے لیے پاکستان اور اس کی عوام کے ساتھ پارٹنر شپ ضروری ہے۔ ’افغان سرحد کے دونوں جانب کامیاب ہوئے بغیر ہم شدت پسندوں کا خاتمہ اور امن کو فروع نہیں دے سکتے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے علاقوں میں القاعدہ اور اس کے شدت پسند اتحادیوں کے خلاف آپریشن کر رہا ہے۔ ’پاکستان کو ان آپریشنز میں کامیابی حاصل ہو رہی ہے اور شدت پسندوں کو محفوظ پناہگاہوں سے نکال دیا گیا ہے۔ القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کو بہت نقصان پہنچا ہے۔‘

انہوں نے پاکستان کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف آپریشنز کے بارے میں مزید کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں شدت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

’یہ دہشت گرد اب آزادانہ گھوم پھر نہیں سکتے، منصوبہ بندی نہیں کر سکتے، تربیت نہیں دے سکتے اور حملے نہیں کر سکتے۔ اور اس وجہ سے امریکہ زیادہ محفوظ ہو گیا ہے۔‘

صدر براک اوباما نے مزید کہا کہ طالبان کی تحریک کو روکا جائے گا اور افغان سکیورٹی فورسز اور حکومت کی استعداد بڑھائی جائے گی تا کہ وہ خود ذمہ داری سنبھالنے کے قابل ہو جائیں اور افغان عوام کا ان پر اعتماد بحال ہو۔

اس موقع پر امریکی صدر نے افعانستان میں خدمات انجام دینے والے امریکی فوجیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ’جب تک آپ جیسے لوگ موجود ہیں مجھے یقین ہے کہ ہماری قوم فتح مند ہوگی۔ مجھے امید ہے کہ ہم خوف پر قابو پا لیں گے۔ اور مجھے یقین ہے بہتر وقت ہمارا انتظار کر رہا ہے۔‘

اسی بارے میں