نسل کشی: معافی کی قرارداد پر بحث شروع

خطۂ بلقان میں سربیا کی پارلیمان نے منگل کو اس قرارداد پر بحث شروع کر دی ہے جس میں مشرقی بوسنیا کے شہر سریبرینیکا میں سنہ انیس سوپچانوے میں سرب فوج کے ہاتھوں سات ہزارسے زائد مسلمان کے قتل عام پر معافی مانگی جانی ہے۔

فائل فوٹو
Image caption قتل کیے گئے مسلمانوں کی اجتماعی قبریں

اس مجوزہ قرارداد کے متن میں معافی مانگی گئی ہے کہ سربیا نے قتلِ عام کو روکنے کے لیے مزید کوششیں نہیں کیں۔ تاہم قرار داد میں دائیں بازو کی جماعتوں کے موقف کے باعث سریبرینیکا کے واقعے کو نسل کشی کہنے سے گریز کیا گیا ہے۔

سربیا میں بوسنیا کی جنگ کے خاتمے کے کئی برس بعد تک سریبرینیکا کے قتل عام کو تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن پانچ برس پہلے رائے عامہ کسی حد تک اس وقت تبدیل ہوئی جب ایک ایسی ویڈیومنظرعام پر آئی جس میں سرب نیم فوجی دستوں کے ارکان کو سریبرینیکا کے مسلمانوں کو قتل کرتے دکھایا گیا تھا۔

لیکن اس تبدیلی کے باوجود ابھی تک رائے عامہ بہت منقسم ہے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں سربوں کو ماضی کو تسلیم کرنا چاہیے۔ تاہم جائزوں کے مطابق اکثریت ابھی تک یہ سمجھتی ہے کہ سربیا کو غلط لعن طعن کی جاتی ہے۔

قرار داد کی منظوری کے لیے مناسب حمایت موجود ہے تاہم قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کے خلاف ووٹ دیں گی۔ بوسنیا جنگ میں یہ قتل عام ہی ہے جسے اقوام متحدہ نے نسل کشی قرار دیا ہوا ہے۔

اس قرار داد سے بلغراد میں مغرب نواز حکومت توقع کر رہی ہے کہ ملک کی شبیہہ درست ہوگی اور اسے ایک جمہوری اور کثیرالنسل ملک کے طور پر دیکھا جاسکے گا۔ اس سے اسے علاقائی مصالحت اور یورپی اتحاد کی رکن سازی میں مدد ملے گی۔

سربیا کے قوم پرست اس قرار داد کو جنگ میں سربوں کے کردار کی غلط عکاسی کو صحیح قرار دینے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ لیکن ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے حکومت نے مستقبل میں ایک ایسی قرار داد پیش کرنے کا وعدہ کیا ہے جس میں سابق یوگوسلاویا میں پیش آنے والے تمام جرائم کی مذمت کی جائے گی۔

اسی بارے میں