ہلمند: بم دھماکے میں تیرہ افراد ہلاک

افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کی ایک مصروف مارکیٹ میں ریموٹ کنڑول بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم تیرہ افراد ہلاک اور پینتالیس زخمی ہو گئے ہیں۔

فائل فوٹو
Image caption صوبہ ہلمند میں نیٹو افواج نے طالبان کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کر رکھی ہے

بدھ کو بم دھماکہ صوبہ ہلمند کے علاقے بابا جی کے نزدیک لشکر گاہ میں ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بم ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا اور اسے ایک ریموٹ کنڑول کے ذریعے چلایا گیا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج اور شدت پسند، عام شہروں کو نقصان پہنچانے سے گریز کرتے ہیں لیکن لشکرہ گاہ میں اس وقت بم دھماکہ کیا گیا جب وہاں ایک بڑی تعداد میں عام شہری موجود تھے۔

یہ بم دھماکہ ایک ایسے وقت ہوا ہے کہ جب امریکی فوج کے اعلیٰ ترین افسر ایڈمرل مائیک مولن کابل میں موجود ہیں۔ انھوں نے کابل میں بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ ہلمند کے علاقے مرجا میں فوجی کارروائی کامیابی سے جاری ہے۔

ایڈمرل مولن نے کہا ہے کہ صوبہ قندھار میں رواں موسم گرما میں ایک بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

صوبہ ہلمند کی حکومت کے ترجمان داؤد احمدی نے بتایا ہے کہ بم دھماکہ مارکیٹ میں اس جگہ کیا گیا جہاں لوگ برطانوی حکومت کی جانب سے فراہم کیے جانے والے سبزیوں کے بیج لے رہے تھے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے سبزیوں کے بیج فراہم کرنے کے پروگرام کا مقصد لوگوں کو افیون کی کاشت سے روکنا ہے۔

جس جگہ دھماکہ ہوا ہے وہاں مقامی کسان اپنا مال مویشی فروخت کرتے ہیں اور یہاں خریداروں کا بھی رش ہوتا ہے۔ ابھی تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ صوبہ ہلمند میں لشکر گاہ مرجا کے نزدیک ہے جہاں ان دنوں نیٹو افواج طالبان کے خلاف ایک بھرپور کارروائی کر رہی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون کا کہنا ہے کہ دھماکے میں سکیورٹی فوسرز کے کسی اہلکار کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

افغانستان میں تعینات بین الاقوامی فوج کا کہنا ہے کہ دھماکے کی جگہ افغان اہلکاروں کی مدد کے لیے ایک گشتی ٹیم روانہ کر دی گئی ہے۔

حالیہ برسوں میں طالبان کی جانب سے جنگجوؤں کو دیے گیے پیغامات میں ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنے حملوں میں عام شہروں کو نشانہ بنانے سے گریز کریں۔

اسی بارے میں