’ایران براہِ راست مداخلت کر رہا ہے‘

ایاد علاوہ کو عراق کی سنی اکثریت نے زیادہ ووٹ ڈالا ہے لیکن اکثریت حاصل کرنے کے لیے انھیں جن پارٹیوں کی ضرورت ہوگی ان میں سے اکثر شیعہ جماعتیں ہیں عراق میں پارلیمانی انتخابات جیتنے والے امیدوار ایاد علاوی نے الزام لگایا ہے کہ ایران ان کے دوبارہ وزیرِ اعظم بننے کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

عراق میں سیکیولر اتحاد کے رہنما علاوی نے اس ماہ عراق میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں فتح حاصل کی تھی لیکن ان کی برتری کم تھی۔ ایاد علاوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تہران عراق کے انتخابی عمل میں ’براہِ راست مداخلت کر رہا ہے۔‘

ان کے ’عراقیہ بلاک‘ نے وزیرِ اعظم نوری المالکی کی سربراہی میں قائم اتحاد کو دو نشستوں کے فرق سے شکست دی ہے۔ نوری المالکی کے اتحاد کو نواسی جب کہ ایاد علاوی کے گروپ کو اکیانوے نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔

عراقی پارلیمان کی تین سو پچیس نشستوں پرچھ ہزار بیس امیدواروں نے چھیاسی مختلف جماعتوں کی طرف سے انتخاب لڑا تھا۔ ان انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب باسٹھ فیصد رہا جو کہ پانچ سال قبل ہونے والے عام انتخابات سے تقریباً تیرہ فیصد کم تھا۔چھ ہزار بیس امیدواروں نے چھیاسی مختلف جماعتوں کی طرف سے انتخاب لڑا تھا۔ ان انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب باسٹھ فیصد رہا جو کہ پانچ سال قبل ہونے والے عام انتخابات سے تقریباً تیرہ فیصد کم تھا۔

عراق میں اقوامِ متحدہ اور امریکہ دونوں ہی کے ایلچیوں نے کہا ہے کہ سات مارچ کو ہونے والے انتخابات کو با وثوق اور معتبر قرار دیا ہے لیکن نوری المالکی کا کہنا ہے کہ وہ ووٹوں کی گنتی کو عدالتوں میں چیلنج کریں گے۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کے مطابق گو ایاد علاوی انتخابات میں جیت گئے ہیں، لیکن وہ اتنی اکثریت حاصل نہیں کر پائے کہ حکومت بنا سکیں۔

ایاد علاوی کو عراق کی سنی اکثریت نے زیادہ ووٹ ڈالا ہے لیکن اکثریت حاصل کرنے کے لیے انھیں جن پارٹیوں کی ضرورت ہوگی ان میں سے اکثر شیعہ جماعتیں ہیں جن کا ایران سے بھی گہرا تعلق ہے۔

بی بی سی سے ایک انٹرویو میں ایاد علاوی نے کہا کہ یہ بات ’بہت واضح‘ ہے کہ ایران انھیں وزیرِ اعظم بننے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

’ایران بہت زیادہ مداخلت کر رہا ہے اور یہ پریشان کن ہے۔‘ ایاد علاوہ نے ایرانی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ان کے عراقیہ بلاک کے سوا تمام بڑی جماعتوں کو مذاکرات کے لیے ایران بلا رہی ہے۔

انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ تہران اس کمیشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے جو اس بات کا جائزہ لیتا کہ کہیں امیدواروں کا سابق صدر صدام حسین کی بعث پارٹی سے تعلق تو نہیں۔ اگر یہ تعلق ثابت ہو جائے تو ایاد علاوی کے اور زیادہ حمایتی نا اہل قرار پا سکتے ہیں۔

ہمارے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایاد علاوی کے ان جملوں سے بعض لوگ یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ وہ حکومت نہ بنا سکنے کے امکان کے پیشِ نظر ان باتوں کو بطور بہانہ استعمال کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں