بیلجیئم: نقاب پہننے پر پابندی کی قرارداد

بیلجیئم کی پارلیمانی کمیٹی نے متفقہ قرارداد میں عوامی جگہوں پر نقاب پہننے پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظور کی ہے۔

بیلجیئم کی داخلہ کمیٹی نے یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی۔ تاہم اس قرارداد کو قانون میں تبدیل کرنے کے لیے پارلیمان کی منظوری ضروری ہے۔

اس قرارداد پر اگلے چند ہی ہفتوں میں پارلیمان میں ووٹنگ ہو سکتی ہے اور اگر پارلیمان اس کو منظور کر لیتی ہے تو بیلجیئم یورپی یونین کا پہلا ملک ہو گا جو نقاب پہننے پر پابندی عائد کرے گا۔

بیلجیئم میں پانچ لاکھ مسلمان رہتے ہیں اور بیلجیئم کی مسلم کونسل کا کہنا ہے کہ ان پانچ لاکھ مسلمانوں میں سے چند درجن خواتین برقعہ پہنتی ہیں۔

بیلجیئم کے کئی اضلاع نے عوامی جگہوں پر برقعہ پہننے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ پابندی ان قدیم قوانین کے تحت لگائی گئی ہے جو کارنیول کے موقع پر پورا چہرہ ڈھانپنے کی ممانعت کرتے تھے۔

منظور کردہ قرارداد کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ اور سڑکوں پر برقعہ پہن کر پھرنے کی ممانعت ہو گی۔

بیلجیئم کی ریفارمسٹ پارٹی نے یہ قرارداد پیش کی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر فحر کرتے ہیں کہ یورپی یونین میں بیلجیئم پہلا ملک ہو گا جو برقعہ پہننے پر پابندی عائد کرے گا۔

اسی بارے میں