ایران: چین کے موقف میں ’تبدیلی‘

ایران کے ایک اعلیٰ جوہری اہلکار سعید جلیلی چین پہنچے ہیں جہاں وہ سلامتی کونسل کی جانب سے ممکنہ نئی پابندیوں کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔

فائل فوٹو
Image caption چین ابھی تک ایران پر نئی پابندیوں کے حق میں نہیں

ایران کے جوہری اہلکار ایک ایسے وقت چین پہنچے ہیں جب بیجنگ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پرموقف میں تبدیلی کے اعشارے مل رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سوسن رائس کا کہنا ہے کہ ’ چین اقوام متحدہ کی نئی قرارداد کے حوالے سے مغربی طاقتوں کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کرنے پر تیار ہے۔‘ اس کی وجہ سے لگتا ہے کہ چین جس کے ایران کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے گا۔

ایران کے جوہری معاملات پر مذاکرات کے لیے ایران کے اعلیٰ ترین اہلکار سعید جلیلی بیجنگ میں جوہری پروگرام کے حوالے سے دو طرفہ مذاکرات کریں گے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ’ ایران اور چین کے درمیان تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں، اور یہ دونوں ممالک کے درمیان تمام معاملات پر تعاون کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔‘

چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چینی صدر رواں ماہ کے آخر میں واشنگٹن میں جوہری تحفظ کے حوالے سے منعقد ہونے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ انھوں مے مزید کہا کہ ’ ہم اس مسئلے کے پرامن حل کے لیے کوشش جاری رکھیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس دیرینہ مسئلہ کا سفارتی طریقہ سے حل ہونا چاہیے۔چین کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملہ کا پر امن حل چاہتا ہے جب کہ مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے جب کے ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

چین سلامتی کونسل کا مسقتل رکن ہے اور کسی بھی قرارداد کو ویٹو( مسترد) کر سکتا ہے۔ ماضی میں چین ایران پر نئی پابندیاں لگانے کے حوالے سے لچک کا مظاہرہ کرتا آیا ہے۔

دوسری جانب صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ ایران پر نئی پابندیاں ہفتوں کے اندر عائد کر دی جائیں گی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ بدھ کو ایک ٹیلی فوم کال کے ذریعے بیجنگ نے بات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سوسن رائس کا کہنا ہے کہ چین اس بات پر تیار ہو گیا ہے کہ وہ نیویارک میں گروپ سکس یعنی چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ بیٹھ کر سنجیدہ بات چیت کرے گا۔ اس بات چیت میں ایران کے خلاف سخت پابندیوں کی قرارداد سلامتی کونسل میں لیجانے سے پہلے بات چیت ہو گی۔

فرانسسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ گروپ سکس(چین، جرمنی، روس، فرانس، امریکہ، برطانیہ) کے ممبر ملک جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل نے بھی ٹیلی فون پر چین کے وزیراعظم سے بات چیت کی ہے۔

ا

اسی بارے میں