کرزئی کا الزام، گیلبرتھ کی تردید

صدر کرزائی انتخابی کمیشن میں صرف افغان حکام کو تعینات کرنا چاہتے ہیں افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے ایک سابق سفیر پیٹر گیلبرتھ نےافغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے لگائے گئے ان الزامات کو کہ غیر ملکی مبصرین گزشتہ انتخابات میں ہونے والی بدعنوانیوں میں ملوث تھے رد کر دیا ہے۔

صدر حامد کرزئی نے پیٹر گیلبرتھ اور یورپی یونین کے مشن کے سربراہ جنرل فلپ موریلون پر افغانستان میں ایک کٹ پتلی حکومت مسلط کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سابق سفیر پیٹر گیلبرتھ نے حامد کرزئی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران ہونے والی بدعنوانیوں کے ذمہ دار افغان صدر اور ان کی طرف سے تعینات کردہ انتخابی عملہ تھا۔

حامد کرزئی نے کابل میں ایک تقریر کےدوران اس بات کا اعتراف کیا کہ گزشتہ سال افغانستان میں ہونے والے عام انتخابات میں وسیع پیمانے پر ’فراڈ‘ ہوا تھا۔

ان انتخابات میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے دوران دس لاکھ سے زیادہ ووٹوں کو رد کر دیا گیا تھا۔

افغان صدر نے پیٹر گیلبرتھ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا نام بدنام کرنے کے لیے پیٹر گیلبرتھ نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو جھوٹی تفصیلات فراہم کئیں۔

’یہ فراڈ افغان عوام کا نہیں بلکہ غیر ملکیوں کا تھا، گیلبرتھ کا فراڈ تھا، اور موریلون کا تھا، اور افغان عوام کے ووٹ ایک ایمبیسی کے قبضے میں تھے۔‘

پیٹر گیلبرتھ نے کہا کہ یہ الزام کے اقوام متحدہ کوئی فراڈ کروائے گی بھنوڈا ہے۔

انھوں نے افغان صدر کے ان الزامات پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو انھیں لگا کہ صدر کرزئی پہلی اپریل کی مناسبت سے کوئی مذاق کر رہے ہیں لیکن پھر انھیں خیال ہوا کہ صدر حامد کرزئی سے ان کے اتنے قریبی تعلقات نہیں ہیں کہ وہ اس قسم کا مذاق کریں گے۔

پیٹر گیلبرتھ کو گزشتہ سال اس وقت ان کے عہدے سے علیحدہ کر دیا گیا تھا جب انھوں نے کہا کہ افغانستان میں انتخابی بدعنوانیوں کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ مناسب اقدامات نہیں کر رہی ہے۔

حامد کرزئی اور ملک کی پارلیمان کے درمیان اس وقت انتخابی کمیشن میں تعیناتیاں کرنے کے بارے میں کشمکش جاری ہے۔

گزشتہ سال ہونے والے عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں صدر حامد کرزئی واضح کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے تاہم دوسرے مرحلے میں ان کے مدمقابل کے دستبردار ہوجانے کے بعد انھیں کامیاب قرار دیا گیا تھا۔

انتخابی بے قائدگیوں کے بارے میں ایک کمیشن کی طرف سے آزادانہ تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے اور کئی جگہوں پر سو فیصد سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے اور کئی جگہوں سے جہاں پولنگ ہوئی ہی نہیں تھی ووٹ نکالے گئے۔

افغان پارلیمان کی جانب سے صرف افغان حکام پر مشتمل کمیشن بنانے کی تجویز کو رد کیے جانے کے ایک دن بعد صدر کرزئی نے یہ الزامات عائد کیے ہیں۔

کابل میں اقوام متحدہ کے حکام نے حامد کرزئی کے ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

تاہم نامہ نگاروں کا خیال ہے ہے کہ اس طرح کے الزامات عائد کرنے سے صدر حامد کرزئی امریکی صدر باراک اوباما سے تصادم کے راستے پر چل نکلے ہیں جو کہ انھیں ملک میں بدعنوانی اور اقرباء پروری ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں۔

اسی بارے میں