سری لنکن صدر جافنا کے دورے پر

سری لنکا کے صدر مہیندہ راجپکشے تامل اقلیتوں کے ثقافتی دارالحکومت جافنا کا غیر معمولی دورہ کر رہے ہیں تاکہ آئندہ پارلیمانی انتخاب میں تاملوں کی حمایت کی جا سکے۔

فائل فوٹو
Image caption صدر دورے میں ایک بڑے جلسے سے حطاب کریں گے

جمعرات کو سری لنکا کے صدر کا یہ دورہ پارلیمانی انتخابات سے ایک ہفتہ قبل کیا جا رہا ہے جس میں صدر کے موجودہ حکمران اتحاد کے جیتنے کے نمایاں امکانات ہیں۔

سری لنکا میں اکثریتی سنہالی قوم سے تعلق رکھنے والے صدر مہیندہ جافنا میں مقبول نہیں ہیں۔ صدر مہیندہ کا یہ دورہ جنوری میں ان کے اس تاریخی دورے کی کڑی ہے جب وہ تامل ٹائیگرز کی علیحدگی پسند تحریک کے کچلے جانے کے بعد پہلی بار تامل علاقے میں گئے تھے۔

تامل ٹائیگرز نے سنہ انیس سو نوے کے ابتدائی پانچ سال جافنا کو سری لنکا سے الگ ریاست کا دارالحکومت بنائے رکھا تھا۔ باغیوں کو کچلنے کے بعد صدر مہیندہ کا جافنا کا دورہ اس بات کا عکاسی کرتا ہے کہ اب اس علاقے کا سری لنکا کے ساتھ دوبارہ اتحادِ نو کیا جا رہا ہے۔

صدر اپنے دورے کے دوران لوگوں کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کریں گے تاکہ آئندہ پارلیمانی انتخاب کے لیے حمایت حاصل کر سکیں۔

گزشتہ سال صدارتی انتخاب میں صدر مہیندہ ملک کے باقی حصوں سے تو جیت گئے تھے لیکن شمال مشرقی علاقوں میں جہاں تامل اکثریت میں ہیں وہاں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان علاقوں میں لوگوں نے صدر کے حریف جنرل فونیسکا کو ووٹ دیے تھے لیکن ان علاقوں ٹرن آؤٹ کم رہا تھا۔

جنرل فونیسکا ان دنوں قید میں ہیں اور حکومت کے خلاف منصوبہ بندی کرنے پر ان کا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ لیکن جنرل فونیسکا دیگر مختلف گروپس کی طرح پارلیمانی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں ایک شکست زدہ گروپ تامل باغیوں کے بہت نزدیک ہے۔

صدر مہیندہ نے وفاقی حل کے نظریے کو مسترد کر دیا تھا جو بہت سارے تاملوں کو پسند تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ جمعرات کو خطاب کے دوران انھیں اپنے پیغام کے لیے تیار سامعین نہیں ملے گے۔

اسی بارے میں