مسلح افراد کی فائرنگ، پچیس ہلاک

عراق میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو بغداد کے جنوب میں واقع ایک سنی مسلک کے ایک گاؤں میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے پچیس افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

فائل فوٹو
Image caption ایک اطلاع کے مطابق لوگوں کے ہاتھ باندھ کر ان کے سروں میں گولیاں ماری ہیں

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے فوجی یونیفارم پہن رکھی تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں پانچ خواتین بھی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے لوگوں کو گھروں سے نکال کر فائرنگ کی۔

ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ان عسکریت پسندوں کے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے جو بعد میں القاعدہ کے خلاف صف آراء ہونے والی سنی ملیشیاؤں میں شامل تھے۔

ایک اطلاع کے مطابق لوگوں کے ہاتھ باندھ کر ان کے سروں میں گولیاں ماری ہیں۔

پولیس کے مطابق کارروائی کے بعد مسلح افراد فوجی گاڑیوں سے مماثلت رکھتی گاڑیوں میں فرار ہو گئے۔ سال دو ہزار آٹھ کے آخر میں عراق کا کنڑول عراقی اہلکاروں کو منتقل کرنے سے پہلے امریکی فوج نے سنی ملیشیا تیار کی تھی۔ اس مقصد کے لیے ملیشیا کو عسکری تربیت، ہتھیار اور مالی وسائل مہیا کیے گئے تھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے عراق میں گزشتہ تین سال کے مقابلے میں شدت پسندی کے واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم حالیہ مہینوں میں اب دوبارہ سے شدت پسندی کے واقعات میں تسلسل سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اسی بارے میں