پیسے نے برباد کر ڈالا

برطانیہ کے رہنے والے کیتھ گو جنہوں نے سنہ دو ہزار پانچ میں نو ملین پاؤنڈ کی لاٹری جیتی تھی گزشتہ ہفتے اٹھاون سال کی عمر میں اپنی بہت سی دولت گنوا کر انتقال کر گئے۔

لوئس اور کیتھ گلبرتھ
Image caption لوئس اور کیتھ گو لاٹری جیتنے کے بعد جشن مناتے ہوئے

ان کی موت دل کے دورے کی وجہ سے ہوئی۔ اس وقت وہ اپنے بھتیجے کے گھر میں رہ رہے تھے۔

جب کیتھ گو کی لاٹری نکلی اس وقت وہ ایک بیکری میں کام کرنے تھے۔ لاٹری نکلنے کے بعد یوں تو انعام جیتنے والوں کی زندگی بدل جاتی ہے لیکن کیتھ کے ساتھ تبدیلی کچھ زیادہ اور تیزی سے آئی۔ انہوں نے کثرتِ شراب نوشی شروع کر دی، مہنگی پراپرٹی اور مہنگی گاڑیاں خریدیں، گھوڑ دوڑ اور اپنے پسندیدہ کلب آسٹن ولا کے میچوں پر اپنا تمام پیسہ خرچ کر دیا۔ باقی جو بچا وہ ایک دھوکہ باز لے اڑا۔

ان کی بیوی لوئس گو جس نے دراصل لاٹری کا ٹکٹ خریدا تھا اس کے ساتھ ہی ان کی نہ بنی اور پچیس سالہ رفاقت کے بعد ان کی بیوی نے انہیں 1.5 ملین پاؤنڈ دے کر طلاق لے لی۔

کیتھ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ کس طرح لاٹری جیتنے کے بعد ان کی زندگی تباہ ہو گئی۔

برطانوی اخبار ’دی ٹیلیگراف‘ کے مطابق ان کو شراب کی اتنی لت پڑی کہ انہیں برمنگھم کے قریب ایک ریہیبلیٹیشن کلینک میں داخل ہونا پڑا۔ یہاں ان کی ملاقات ایک دھوکہ باز سے ہوئی جس کو اندازہ ہو گیا کہ کیتھ سے پیسے بٹورنا کوئی مشکل کام نہیں۔

اس نے ’زبردست‘ کاروبار کا جانسہ دے کر سات لاکھ پاؤنڈ ہتھیا لیے۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ برطانیہ میں کسی لاٹری جیتنے والے کے ساتھ ایسا ہوا ہو۔ اس سے قبل 1999 میں دو ملین پاؤنڈ کی لاٹری جیتنے والے فلپ ایلن کچن کا انجام بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ لاٹری جیتنے کے تین سال بعد ان کو مردہ حالت میں ان کے گھر کے صوفے پر پایا گیا تھا اور اس وقت ان کے گرد بیئر کے دو کریٹ اور ایک وہسکی کی پوری بوتل پڑی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب فلپ کی موت ہوئی تو ان کی عمر بھی 58 سال تھی۔

اسی بارے میں