چوبیس کان کن زندہ بچ گئے

چین کے شمالی حصے میں ایک سو تریپن مزدوروں میں سے چوبیں کو جو کوئلے کی کان میں پانی بھر جانے سے کان میں پھنس گئے تھے ایک ہفتے کی کوشیشوں کے بعد بچا لیا گیا ہے۔

چین میں سرکاری ٹی وی پر کان کنوں کو سٹریچرز پر کان سے نکال کر ایمبولینسوں پر ہپستال لے جانے کے مناظر دکھائے گئے۔ حکام کا خیال ہے پچانوے کان کن اب بھی زندہ ہیں جنہیں بچایا جا سکتا ہے۔

امدادی کام کرنے والوں نے پہلے نو کان کنوں کو نکالا جس کے بعد باقی کان کنوں کو نکالا گیا۔

اس کان میں پانی نکال کر پھنسے ہوئے کان کنوں تک پہنچنے کے کام میں گزشتہ ایک ہفتے سے تین ہزار کارکن حصہ لے رہے تھے۔

چین کے صوبے شان ژی میں وینگ جیانگ لنگ کی کوئلے کی کان میں اس وقت پانی بھر گیا تھا جب کان کن ایک شافٹ پر کام کر رہے تھے۔

گزشتہ جمعہ کو کان میں پھنسے ہوئے کان کنوں نے ایک پائپ پر ضرب لگا کر اپنے زندہ ہونے کا اشارہ دیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ اب مزید کان کنوں کو بچا لیا جائے گا۔

Image caption کان میں ایک سو تیرپن مزدور پھنس گئے تھے

پیر کو نصف شب کے بعد پہلے کان کن کو نکالا گیا۔ جس سے امدادی کام میں مصروف لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

اس کان کن کو سٹریچر پر ڈال کر جب ایمبولینس کی طرف لے جایا گیا تو اردگرد موجود لوگوں نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا۔ اس کان کن کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئی تھیں تاکہ ایک ہفتے اندھیرے میں رہنے کے بعد روشنی میں آنے سے اس کی بصارت کو نقصان نہ پہنچے۔

کان سے بحفاظت نکالے جانے والے ایک کان کن نے کہا کہ پینے کا پانی ختم ہو گیا تھا اور وہ کان میں موجود گندا پانی پینے سے ڈر رہے تھے۔