بغداد: تین دھماکوں میں اکتالیس ہلاک

حکام کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہونے والے تین خود کش کار بم دھماکوں میں کم از کم اکتالیس افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

بغداد میں یک بعد دیگرے ہونے والے ان خود کش کار بم دھماکوں میں نشانہ بظاہر غیر ملکی سفارت خانوں کو بنایا گیا تھا۔

عراق میں گزشتہ ماہ ہونے والے عام انتخابات کے بعد سے نسبتاً سکون تھا اور تشدد کا سلسلہ تھم گیا تھا لیکن ان دھماکوں، جن کی ذمہ داری ابھی تک کسی گروپ کی طرف سے قبول نہیں کی گی ہے بغداد شہر میں ایک مرتبہ پھر خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔

بغداد میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جم میئور کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دہشت گرد یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ عراق اب بھی ایک غیر مستحکم اور غیر محفوظ ملک ہے۔ جم میئور کے مطابق تینوں دھماکے کچھ منٹوں کے وقفے سے ہوئے اور ان کی آواز سے پورا مرکزی بغداد لرز اٹھا۔ آسمان کی طرف اٹھتے سفید دھویں کے بادل صاف نظر آ رہے تھے۔

گزشتہ ہفتے مسلح افراد نے القاعدہ مخالف سنی فرقے کے پچیس افراد کو بغداد کے قریب ایک گاؤں میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اتوار کو بغداد میں دو دھماکے ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں ہوئے۔ یہ دھماکے بغداد کے مغربی حصے میں منصور کے علاقے میں ہوئے جہاں غیر ملکی سفارت خانے قائم ہیں۔ ان دھماکوں سے مصر، جرمنی اور شام کے سفارت خانے متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر سڑک پر گزرنے والے عام شہری ہیں۔

پہلے دو دھماکوں کے چند لمحوں بعد تیسرا دھماکہ ایرانی سفارت خانے کے قریب ہوا۔

ایران کے حمایت یافتہ سیاستدان احمد چلابی کی جماعت عراقی نیشنل کانگریس نے کہا ہے کہ ان کا صدر دفتر شام کے سفارت خانے کے قریب واقع ہے اور ان دھماکوں میں ان کے دفتر کے عملے کے کئی افراد ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے ایک اور مشبتہ خود کش حملہ آوور کو اس سے پہلے کہ وہ دھماکہ کرتا گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

دھماکوں کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں۔

یاد رہے کہ یہ دھماکے بغداد کے جنوب میں واقع سنی مسلک کے ایک گاؤں میں مسلح افراد کی فائرنگ جس میں پچیس افراد ہلاک ہوئے تھے کے دو روز بعد ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں