’ایک اور وعدہ پورا کر دیا‘

منگل کے روز امریکی انتظامیہ کی جانب سے نئی جوہری حکمت عملی کے اعلان کے بعد، صدر اوباما نے اپنے ایک بیان میں اس اقدام کو ایک اہم اور دور رس نتائج والا اعلان قرار دیا۔

Image caption ایک برس قبل پراگ میں جوہری ہتھیاروں میں کمی کا جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کیا جا رہا ہے: اوباما

انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک برس قبل پراگ میں جوہری ہتھیاروں میں کمی کا جو وعدہ کیا تھا اسے اب پورا کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ان کی انتظامیہ اکیسویں صدی میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں کمی کرنے کی حکمت عملی پر چلتے ہوئے، ملک کو روایتی ہتھیاروں میں مضبوط بنائے گی جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی حفاظت کے لئے محفوظ اور موثر جوہری ہتھیاروں کی مخصوص تعداد اس وقت تک اپنے پاس رکھے گا جب تک دنیا میں جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

براک اوباما کے مطابق ان کی انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ آج کے دور میں امریکہ اور دیگر ممالک کو جوہری خطرہ ممالک کے درمیان تنازعات سے نہیں بلکہ جوہری دہشتگردی اور بعض ممالک کی جانب سے جوہری پھیلاؤ سے ہے۔

اوباما نے کہا کہ نئے حالات کی بدولت، پہلی مرتبہ یہ ہورہا ہے کہ جوہری حوالے سے امریکی ایجنڈے میں اہم ترین حیثیت جوہری پھیلاؤ اور جوہری دہشتگردی کو حاصل ہوگئی ہے جس کی وجہ سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کا معاہدہ یعنی این پی ٹی اور بھی زیادہ اہمیت حاصل کرگیا ہے۔

امریکہ نے جوہری عدم پھیلاؤ کے منصوبوں کے لئے فنڈز میں اضافہ کردیا ہے اور صدر اوباما کو امید ہے کہ اس سلسلے میں اگلے ہفتے واشنگٹن میں جوہری سلامتی کی سربراہ کانفرنس میں پیش رفت ہوگی۔

اگلے ہفتے سینتالیس ممالک کی ہونے والی اس کانفرنس میں پاکستان اور ہندوستان کے وزرائے اعظم بھی شریک ہو رہے ہیں۔ غیر قانونی جوہری پھیلاؤ کے سلسلے میں پاکستان کے کردار کے بارے میں دنیا کو کئی شبہات ہیں اور امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس سلسلے میں جوہری سائینسدان عبدالقدیر خان سے سکینڈل کی مزید تفتیش کرکے ان کے مبینہ نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کو بے نقاب کرے۔

اسی بارے میں