افغانستان:الیکشن کمیشن کے سربراہ مستعفی

افغانستان کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے الیکشن کمیشن کے سربراہ اور ان کے نائب نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

فائل فوٹو
Image caption الیکشن کمیشن پر پہلے ہی بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے صدراتی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد تنقید کی جا رہی ہے

صدر حامد کرزئی کے ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن کے صدر عزیز اللہ لودین کی مدتِ ملازمت ختم ہو چکی تھی اور وہ اسے آگے بڑھانا نہیں چاہتے تھے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ عزیز اللہ لودین کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے اور ان کی جگہ نئے سربراہ کا تقرر کر دیا جائے گا۔

کابل سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ کا استعفیٰ ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ممکنہ دھاندلی کے خدشات میں اضافے کا سبب بنے گا۔ الیکشن کمیشن پر پہلے ہی بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے صدراتی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد تنقید کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخاب کا پہلا مرحلہ اگست سال دو ہزار آٹھ میں منعقد ہوا تھا تاہم اس الیکشن کے دوران بڑے پیمانے پر دھاندلی کی شکایات سامنے آئی تھیں۔ انتخاب کے پہلے مرحلے میں ووٹوں کی ایک بڑی تعداد کی دوبارہ گنتی بھی کروائی گئی اور انتخابی شکایات کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں صدارتی انتخاب کا دوسرا راؤنڈ کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

لیکن حامد کرزئی صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں واحد امیدوار تھے کیونکہ ان کے حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے انتخاب کے دوسرے مرحلے میں حصہ نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابی دھاندلی کو روکنے کے لیے کوئی انتظام نہیں کیاگیا اور موجودہ الیکشن کمشنر کی موجودگی میں انتخاب میں حصہ لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

اس کے بعد رواں ماہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اقوام متحدہ اور بعض مغربی طاقتوں پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے افغانستان کے صدارتی انتخاب کی ساکھ کو خراب کیا اور وہ انتخابی دھاندلی کے ذمہ دار تھے۔

حامد کرزئی کے اس بیان پر امریکہ نے خاصی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کا دورہ امریکہ منسوخ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اسی بارے میں