کابل: طالبان کمانڈر کی خفیہ رہائی

بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق افغانستان میں طالبان کے ایک سینیئر کمانڈر جنھیں کابل میں غیر ملکیوں کو اغوا کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا کو رہا کر دیا گیا ہے۔

فائل فوٹو
Image caption اکبر آغا کو گزشتہ برس نومبر میں عید الاضہی کے موقح پر خاموشی سے رہا کر دیا گیا

اکبر آغا نامی اس کمانڈر کو سنہ دو ہزار چار میں اقوامِ متحدہ کے تین اہلکاروں کو اغواء کرنے کے جرم میں سولہ سال کی قید سنائی گئی تھی۔

اکبر آغا کے دوستوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں صدر حامد کرزئی نے معاف کر دیا ہے۔ دوسری جانب حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر ایسا نہیں کر سکتے۔

یاد رہے کہ کابل سے اغواء ہونے والے یہ پہلے غیر ملکی اہلکار تھے۔ ان اہلکاروں کو اغوا کے ایک ماہ بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ ان اہلکاروں میں شمالی آئرلینڈ کی ایک خاتون کے علاوہ کوسوو اور فلپائن کے ایک شہری شامل تھے۔

اکبر آغا نے ان اہلکاروں کواپنےگروپ جیشِ مسلمین کو شناخت کروانے کے لیے اغواء کیا تھا۔ لیکن اس گروپ کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے سربراہ اکبر آغا کو اس جرم کے ارتکاب میں طویل سزا دی گئ تھی۔

بی بی سی کو اب پتہ چلا ہے کہ اکبر آغا کو گزشتہ برس نومبر میں عیدالاضحیٰ کے موقح پر خاموشی سے رہا کر دیا گیا۔

اکبر آغا کے دوستوں کے مطابق انہیں صدر حامد کرزئی نے اس شرط پر معاف کیا کہ وہ رہائی کے بعد کابل میں رہیں گے۔

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے سابق سربراہ کائی ایڈی کا کہنا ہے کہ اکبر آغا کی رہائی کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا تھا لیکن انہیں رہائی کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا۔

کائی ایڈی نے یہ تسلیم کیا کہ انہوں نے صدر کرزئی سے اکبر آغا کی رہائی کے معاملے پر بات چیت نہیں کی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیم کے حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خفیہ پور پر ہی کیے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں