وقت کی پابندی پر مراعات حاصل کریں

لاطینی امریکہ کے ملک بولیویا میں صدر نے لوگوں کو وقت کی پابندی کی عادت ڈالنے کے لیے اضافی مراعات اور بونس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

فائل فوٹو، بولیویا
Image caption بولیویا میں عام آدمی سے لے کر صدر تک وقت کی پابندی کے عادی نہیں

بولیویا کے صدر کی جانب سے یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ملک میں مقررہ وقت سے لیٹ ہونا عام سی بات ہے اور پندرہ بیس منٹ یا آدھا گھنٹہ لیٹ ہونے کو معیوب نہیں سمجھا جاتا۔

کام، ملاقات یا کسی بھی مقصد کے لیے دیا گیا وقت نو بجے ہے تو ساڑھے نو بجے پہنچنا بولیویا کے لوگوں کی عادت ہے اور اسے بولیویائی وقت کہا جاتا ہے۔

یعنی نو کا مطلب ساڑھے نو۔ دنیا بھر میں عموماً کاروباری اور پیشہ ور سرگرمیوں کا آغاز صبح کے نو بجے ہوتا ہے چنانچہ آپ کو صبح کے سات بجے سے ہی سڑکوں پر رش نظر آنا شروع ہو جاتا ہے لیکن بولیویا میں ایسا نہیں ہوتا ہے اور لوگ نو بجے سڑکوں پر نظر آنا شروع ہوتے ہیں۔

سکول کے طلباء ہوں یا اساتذہ، مزدور ہوں یا پڑھے لکھے پیشہ ور لوگ، سبھی دیر سے آنے کے عادی ہیں۔ یہاں تک کہ صدر ایوو مورالیز خود وقت کی پابندی کے عادی نہیں۔ بعض دفعہ تو ایسا ہوا کہ انہوں نے صحافیوں کی پریس کانفرنس بلائی اور صحافی دو دو گھنٹے انتظار کرنے کے بعد احتجاجًا اٹھ کر چلے گئے کیونکہ صدر مورالیز کی آمد مقررہ وقت پر نہ ہو سکی۔

اب بولیویا کے صدر کا خیال ہے کہ لوگوں کے دیر سے آنے کی عادت ملکی معیشت کو لاکھوں ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہے۔ چنانچہ ان کی حکومت نے لیبر قوانین میں اصلاحات تیار کی ہیں جن میں اُن لوگوں کو بونس اور اضافی مراعات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کم از کم کام کے معاملے میں وقت کے پابند ہوں گے۔

اسی بارے میں