جوہری عدم پھیلاؤ پر عالمی کانفرنس

Image caption ایران اور شمالی کوریا کو اس کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا

امریکی صدر براک اوباما کی میزبانی میں اگلے ہفتے واشنگٹن میں ایٹمی سلامتی سے متعلق ایک غیر معمولی کانفرنس ہو رہی ہے جس میں پاکستان اور ہندوستان کے وزرائے اعظم سمیت سینتالیس ممالک کے سربراہان شریک ہورہے ہیں۔

امریکی اہلکار کانفرنس کے تفصیلی ایجنڈے سے آگاہ نہیں کر رہے لیکن خیال ہے کہ ان اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا جن کے تحت ایٹمی ہتھیاروں اور ان کے لئے استعمال ہونے والے مواد اور سازوسامان تک دہشتگردوں کی رسائی روکنے کو یقینی بنایا جاسکے۔ساتھ ہی کانفرنس کے موقع پر ہونے والی دیگر ملاقاتوں میں، جنہیں سائیڈ لائینز پر ہونے والی ملاقاتیں کہا جاتا ہے، صدر اباما ایران اور شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام اور ایران کے خلاف ممکنہ نئی اقتصادی پابندیوں کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔

کانفرنس میں شرکت ہونے والے ممالک کو ایجنڈے سے متعلق جو مجوزہ مسودہ دیا گیا ہے اس میں امریکہ نے تجویز پیش کی ہے کہ دنیا میں موجود غیر محفوظ ایٹمی مواد کو چار برس میں محفوظ بنایا جائے۔

ایک اور تجویز جو بحث کے لئے پیش کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ امکانی طور پر غیرمحفوظ ممالک کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنے ممالک میں موجود غیر محفوظ ایٹمی، دفاعی اور طبی تنصیبات سے ہر طرح کا تابکاری مواد عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے تعاون سے محفوظ مقامات پر منتقل کروالیں۔

Image caption اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے

کانفرنس بارہ اور تیرہ اپریل کو ہوگی اور توقع ہے کہ آخری روز ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس کے لئے تمام ممالک کی تجاویز پر بحث ہوگی۔

پاکستان کی شرکت پر بھی دنیا کی نظر رہے گی کیونکہ حالیہ برسوں میں پاکستان وہ ملک تھا جہاں کے اہم ترین ایٹمی سائینسدان عبدالقدیر خان نے غیر قانونی طور پر ایران، شمالی کوریا اور لبیا کو ایٹمی معلومات اور سازوسامان فراہم کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ پاکستان نے اس کے بعد وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے ایٹمی مواد کو محفوظ بنانے کے لئے تمام اقدامات کرے گا۔ عالمی رہنما سننا چاہیں گے پاکستان اپنے اقدامات میں کس قدر کامیاب رہا ہے۔

پاکستان اور ہندوستان نے انیس سو ستر میں ہونے والے ایٹمی پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے گو دونوں ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ جبکہ اسرائیل نے بھی این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے اور نہ ہی اس نے خود کو ایٹمی ملک ظاہر کیا ہے۔ لیکن عام طرو پر خیال یہی کیا جاتا ہے کہ اسرائیل کے پاس بھی ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ یہ تینوں ممالک این پی ٹی پر دستخط کریں۔

اس کانفرنس کے لئے ایران اور شمالی کوریا کو دعوت نہیں دی گئی۔ دونوں ممالک پر اقوام متحدہ کی جانب سے اقتصادی پابندیاں نافذ ہیں۔ ایران پر مغربی ممالک ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام عائد کرتے ہیں جبکہ شمالی کوریا نے دوہزار تین میں این پی ٹی سے الگ ہونے کے بعد دو مرتبہ ایٹمی دھماکے کئے ہیں گو وہ کہتا ہے کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام ترک کردے گا۔

امریکی دارالحکومت میں سفارتکار اور تجزیہ نگار اس کانفرنس کو بہت زیادہ اہمیت دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ اس نوعیت کی سب سے بڑی کانفرنس ہے۔ ایک تجزیہ نگار کے مطابق اس کانفرس کے اثرات سرکاری ایجنڈے سے کہیں زیادہ دور رس ثابت ہوں گے۔

واشنگٹن میں سفارتی حلقے خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ چین کے صدر ہو جن تاؤ کی اس کانفرنس میں شرکت اوباما کی بڑی کامیابی ہے اور ان کی شرکت یہ بات واضع کرتی ہے کہ چین، تائیوان اور بعض دیگر معاملات پر امریکہ کے ساتھ تنازع کو بنیاد بنا کر دنیا سے الگ تھلگ نہیں رہنا چاہتا اور عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔

جو دیگر اہم رہنما شرکت کر رہے ہیں ان میں روس کے صدر میدودیف، فرانس کے صدر سارکوزی اور جرمنی کی چانسلر مرکل بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں