سری لنکا انتخابات: حکمراں جماعت آگے

سری لنکا کے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتاج کے مطابق حکمراں جماعت جیت رہی ہے۔

صدر راجہ پاشکے
Image caption صدر مہندہ راجہ پاکشے کی جماعت نے الیکشن جیتنے کا دعوی کیا ہے

انتخابی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بیس فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد یہ واضح ہے کہ صدر مہندہ راجہ پاکشے کی جماعت نے ساٹھ فیصد ووٹ حاصل کر لیے ہیں۔

حکومتی ترجمان نے انتخابات میں فتح کا دعوی کیا ہے تاہم کہا ہے کہ حکومت کو شاید آئینی ترامیم کے لیے ضروری دو تہائی اکثریت نہ مل سکے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق حزب اختلاف کی جماعت دوسرے نمبر پر ہے اور سابق فوجی سربراہ جنرل سارت فونسیکا کی جماعت نے صرف پانچ فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ جنرل وفونسیکا صدر راجہ پکشے کے خلاف صدارتی انتخاب میں امیدوار تھے لیکن اس انتخاب میں دھاندلیوں کے الزامات لگانے کے بعد ان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف کورٹ مارل شروع کیا گیا تھا۔ وہ اب جیل میں ہیں لیکن وہ اس کے باوجود پارلیمانی انتخابات میں بھی امیدوار تھے۔

انتخابی مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابات میں ووٹنگ کی شرح خاصی کم رہی اور ملک کے شمال کے جنگ سے متاثر علاقوں سے بے گھر ہونے والے تاملوں کی بڑی تعداد انتخابات میں شریک نہیں ہو سکے۔

عالمی تنظیم ’کیپمین فار فری اینڈ فیر الیکشنز‘ کے مطابق شمالی سری لنکا میں جنگ سے متاثر تاملوں کی اکثریت ووٹ سے محروم رہی کیونکہ ان کو شناختی کاغدات کے بارے میں واضح ہدایت نہیں دی گئیں۔

یہ سری لنکا میں چھبیس سال چلنے والی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں۔

حکومت ابتدائی نتائج کی بنیاد پر الیکشن جیتنے کا دعوی کر رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے وزیر دلاس الاپیروما نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری فتح کے بارے میں کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ ہمیں دو تہائی اکثریت سے شاید بارہ یا تیرہ نشستیں کم ملیں لیکن وہ ہمارے لیے مسئلہ نہیں ہے۔‘ وزیر کا کہنا تھا کہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج سے صدر راجہ پکشے کے پروگرام کے لیے عوامی حمایت ظاہر ہوتی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر صدر کی جماعت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہو جاتی ہے تو وہ آئین میں تبدیلیاں کرنے کی پوزیشین میں ہوں گے۔ صدر راجہ پاشکے کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ آئینی ترامیم کر سکے تو ان کی حکومت شاید پارلیمان کا دوسرا ایوان قائم کرے۔

اسی بارے میں