کرغزستان بغاوت

کرغزستان میں صدر قرمان بیکیک قوف کے خلاف حزب اختلاف کی بغاوت اور صدر کے دارالحکومت بشکیک سے فرار ہونے کے بعد دنیا کی پوری توجہ اس وسطی ایشیائی ریاست کے علاقے مناس میں امریکی موجود فوجی اڈے کے مستقبل اور روس اور امریکہ کے درمیان پائی جانے والی کشمکش کی طرف ہو گئی ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک آئیڈل صورت حال میں روس کی ترجیح یہی ہو گی کہ امریکہ وہاں موجود نہ رہے۔ کرغزستان سابق سویت یونین کا حصہ رہا ہے اور یہاں کہ لوگ اب بھی اسی کی طرف دیکھتے ہیں۔ میں نے انیس سو چھانوے میں کرغزستان کے دورے کے دوران اور خاص طور پر بشکیک میں ایک ’ریمائرمنٹ ہوم‘ میں ریڈ آرمی کے سابق مقامی اہلکاروں سے بات کرکے مجھے یہ معلوم ہوا کہ لوگ اب بھی سویت یونین کو یاد کرتے ہیں۔

انھیں خدشہ تھا کہ کرغزستان کی اتنظامیہ کے تحت ملک میں کرپشن اور افرا تفریحی پھیلے گی۔کرغزستان میں سن دو ہزار پانچ کو ’ٹیولپ ریولوشن‘ میں عسکر اکیاف کی اقرباء پرورحکومت کے ختم ہونے کے بعد صدر بیکیک کی ایک اور اقرباء پرور حکومت وجود میں آ گئی۔

روس اور امریکی کشمکش

ملک میں حالیہ بدامنی کے پیچھے کوئی نظریہ ہیں بلکہ عوامی غم وہ غصہ کار فرما ہے۔

حالیہ بغاوت دو بڑی عالمی طاقتوں میں سرد جنگ کے دنوں کی طرح کی کسی بھی مسابقت کا نتیجہ بھی نہیں ہے۔

.روس در حقیقت افغانستان میں موجود نیٹو افواج کو اس راستے سے رسد کی ترسیل میں بھی معاونت کر رہا ہے۔

روس جو خود مسلمانوں کی طرف سے مشکالات کا شکار ہے کبھی نہیں چاہے گا کہ طالبان فتحمند ہوں۔

دوسری طرف اس کی کوشش ہوگی کہ وہ علاقے میں اپنا جس قدر بھی ممکن ہو اثر و رسوخ قائم رکھے۔ تاہم وقتاً فوقتاً اس کے رویے میں تبدیلی آتی رہتی ہے اور کبھی یہ امریکہ کی مدد کرتا ہے اور کبھی اس کی راہ میں رخنے ڈالنے لگتا ہے۔

اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کسی حد تک خوشگوار ہیں اور دونوں ملکوں نے گزشتہ ہفتے ہی جوہری ہتھیاروں میں تخفیف کا معاہدہ کیا ہے۔ صدر اوباما نے سابق صدر بش کے دورے میں پولینڈ اور چیک رپبلک میں دفاعی میزائل نظام لگانے کا منصوبہ بھی ترک کر دیا ہے۔

.صدر اوباما کی قومی سلامتی کونسل میں روس اور یورایشین امور کے ڈائریکٹر مائیل میکفال کے خیال میں اس بغاوت کے پیچھے روس کا ہاتھ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ مخالف بغاوت نہیں ہے اور وہ یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس میں روس کا ہاتھ ہے۔

تاہم اس بات کے اشارے میں ملے ہیں کہ باغیوں میں شامل کچھ عناصر کا نگاہیں مناس کے امریکی اڈے لگی ہوئی ہیں۔

Image caption کرغزستان کے سابق صدر ملک کے جنوبی حصہ کی طرف فرار ہو گئے ہیں

حزب اختلاف کے گروہ میں شامل عمربیگ تیکیاوف نے جنہوں نے عبوری حکومت میں آئینی امور کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں برطانوی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر قرمان بیک باقیوف کے جانے سے آپ روسیوں کی خوشی کا اندازہ لگا سکتے ہیں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ اب امریکہ فوجی اڈے کے دن بھی تھوڑے ہی رہ گئے ہیں۔

حزب اختلاف کی راہنما اور برطانیہ میں کرغزستان کی سابق سفیر روضا اوتنبائیوف کا کہنا ہے کہ مناس کے اڈے کے معاہدے پر نظر ثانی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

عبوری حکومت اگر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے لیے امریکی اڈہ جسے مقامی طور پر ’ٹرانزٹ سینٹر‘ کہا جاتا ہے آمدن کا اچھا ذریقہ ثابت ہو گا۔

سابق صدر قرمان بیک باقیوف نے اس اڈے کو روس اور امریکہ کے ساتھ سیاست کرنے کا ایک ذریعہ بنایا تھا۔

سابق صدر قرمان بیک باقیوف نے پہلے اس اڈے کو بند کرنے کا اعلان کر کے روس سے دو ارب ڈالر وصول کئیے پھر امریکیوں سے اس اڈے کا کرایہ ایک کروڑ ستر لاکھ ڈالر سالانہ سے چھ کروڑ ڈالر کروا لیا اور اس کی لیز کی مدت بھی اس سال جولائی تک بڑھا دی۔

اس کرائے کے علاوہ امریکہ اس گیارہ کروڑ سات لاکھ ڈالر کی سالانہ امداد اس ملک کے لیے کوئی معمولی چیز نہیں جس میں عام آدمی کی آمدن چند ڈالر روزانہ سے زیادہ نہیں۔

اس تناظر میں بہت سے بیرونی مبصرین کا یہی کہنا ہے کہ یہ امریکہ اڈہ ابھی ختم نہیں کیا جائے گا۔

لندن میں چیتھم ہاوس کے جیمز میکسی کا کہنا ہے کہ کرغزستان کے حالیہ واقعات میں امریکہ کو اس کے علاوہ کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ پر اس کا اڈہ کام کرتا رہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس اڈے کے حوالے سے تشویش بے بنیاد ہے کیونکہ کرغزستان میں مستقبل میں آنے والی بہت سے حکومتوں کو اس سےحاصل ہونے والے کرائے اور امریکی امداد کی ضرورت رہے گی اور اس کے عوض ہر سیاسی قیمت ادا کرتے رہے گی۔