ہلاکتیں کی تعداد اٹھارہ، آٹھ سو زخمی

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں مظاہرین اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اٹھارہ ہو گئی ہے۔

فائل فوٹو، بنکاک مظاہروں کے بعد
Image caption ہلاک ہونے والوں میں چار فوجی بھی شامل ہیں

سنیچر کو گزشتہ اٹھارہ سالوں میں ہونے والے پرتشدد ترین حکومت مخالف مظاہروں میں زخمیوں کی تعداد کم از کم آٹھ سو تک پہنچ گئی ہے۔

اتوار کی صبح ڈیڑھ کروڑ آبادی کے شہر بنکاک میں غیر سرکاری طور پر حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف آپریشن روکے جانے کی وجہ سے حالات پر سکون ہیں۔

جھڑپوں کا یہ سلسلہ سنیچر کو اس وقت شروع ہوا تھا جب فوج اور پولیس کے سینکڑوں سپاہیوں نے سرخ پوش مظاہرین کے بنکاک میں فان فاہ پل اور راج دمنوئن روڈ پر واقع دو ٹھکانوں کی جانب پیش قدمی کی۔

یہ سرخ پوش مظاہرین حکومت سے نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور انہوں نے گزشتہ ایک ماہ سے بنکاک کے مختلف علاقوں میں کیمپ لگائے ہوئے ہیں۔

پیش قدمی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے آنسو گیس استعمال کی اور ربر کی گولیاں بھی چلائیں جس کے جواب میں مظاہرین نے سکیورٹی اہلکاروں پر پٹرول بم پھینکے۔

Image caption مظاہرین نے سکیورٹی اہلکاروں پر پٹرول بم پھینکے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جھڑپوں کے دوران دونوں جانب سے ہتھیاروں اور آتش گیر مواد کا آزادانہ استعمال کیا گیا اور ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں جائے وقوعہ کو آنسو گیس کے بادل میں گھرا دیکھا جا سکتا تھا۔

سنیچر کو ان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پندرہ تھی۔ حکومتی طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں چار فوجی، ایک جاپانی کیمرہ مین اور دس عام شہری شامل ہیں۔

ان جھڑپوں کے بعد فوج نے عارضی صلح کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج کو پیچھے ہٹایا جا رہا ہے۔

جھڑپوں کے بعد تھائی لینڈ کے وزیراعظم نے سرکاری ٹی وی پر آ کر اس آپریشن کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ فوجیوں نے گولیاں صرف ہوا میں اور اپنے دفاع میں چلائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس آپریشن کو روک دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ احتجاج اس طرح ہونا چاہیے کہ اس سے سکیورٹی فورسز کے کام میں خلل نہ پڑے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حالات میں بہتری لانے کی ذمہ داری حکومت اور خود ان پر عائد ہوتی ہے اور وہ ملک میں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سابق وزیرِاعظم تھاکسن کے حامیوں نے بارہ مارچ کو موجودہ وزیرِاعظم کے خلاف احتجاجی مہم شروع کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ابھیشت ویجاجیوا کی حکومت غیر قانونی ہے اور انہیں مستعفی ہو کر نئے انتخابات کروانے چاہئیں۔

اسی بارے میں