کرزئی کے لیے امریکی حمایت

امریکہ کے وزرائے دفاع اور خارجہ نے افغانستان کے ساتھ کشیدگی کے بعد اب صدر کرزئی کو بھرپور حمایت کی پیشکش کی ہے۔

امریکی ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان اچھے فوجی تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں احساس ہے کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو مشکل داخلی صورتحال کا سامنا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق دونوں وزیروں کا یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی شعوری کوشش ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران صدر کرزئی نے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو اپنے ان بیانات سے پریشان کر دیا تھا جن میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ ممالک ان کی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے ان ممالک پر افغانستان کے انتخابات میں مداخلت کا الزام بھی لگایا۔

امریکی وزیر خارجہ کلنٹن نے اس مسئلے پر پہلی بار بیان دیتے ہوئے لوگوں کو احساس دلایا کہ صدر کرزئی انتہائی دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ صدر کرزئی پر تنقید کو افغان عوام اپنی خودمختاری پر وار سمجھ سکتے ہیں اور امریکہ ایسا تاثر نہیں پیدا کرنا چاہتا۔انہوں نے کہا کہ صدر کرزئی کا امریکی فوج کے ساتھ تعاون جاری ہے۔

امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کے ساتھ بات کرتے امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ صدر کرزئی اور افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کے سربراہ جنرل اسٹینلے میکرسٹل کے درمیان بہتر تعلقات ہیں۔

’جنرل میکرسٹل ان سے باقاعدگی سے ملتے ہیں اور انہیں صدر کرزئی کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ میرا خیال ہے کہ افغان عوام اپنے ملک کی خودمختاری کے بارے میں بہت فکرمند ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ دنیا صدر کرزئی کے ساتھ عزت کے ساتھ پیش آئے کیونکہ وہ افغان عوام اور ان کی خودمختاری کی نمائندگی کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ان کے بارے میں رائے زنی کرتے احتیاط سے کام لینا ہوگا۔‘

صدر کرزئی کی طرف سے بیانات کی بوچھاڑ سے امریکی ذرائع ابلاغ میں بحث چھڑ گئی تھی کہ آیا امریکہ کو ان کی حکومت کی حمایت جاری رکھنی چاہیے یا نہیں۔

اس وقت نوے ہزار امریکی فوجی افغانستان میں طالبان سے لڑ رہے ہیں اور امریکہ کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ امریکہ کے دو اعلیٰ اہلکاروں کی طرف سے بیان بازی کی شدت کو کم کرنے کی کوشش امریکہ کے لوگوں کے ساتھ ساتھ افغان عوام اور سیاستدانوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے۔

اسی بارے میں