جوہری دہشتگردی کا خطرہ موجود ہے: اوباما

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ کی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ کسی دہشت گرد تنظیم کے ہاتھ جوہری ہتھیار لگ جانے کا ہے۔

اوباما اور گیلانی

امریکہ میں جوہری سلامتی کے بارے میں ہونے والے بین الاقوامی سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکہ کے صدر براک اوباما نے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک پر زور دیا کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ کس طرح جوہری ہتھیار محفوظ رکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے ہندوستان کے وزیر اعظم من موہن سنگھ اور پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے بھی ملاقاتیں کیں۔

ایٹمی مواد کو محفوظ بنانے سے متعلق صدر اوباما کی دعوت پر پیر سے واشنگٹن میں شروع ہونے والے بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان اور ہندوستان کے وزرائے اعظم سمیت، سینتالیس ممالک کے رہنماء واشنگٹن پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

صدر براک اوباما کانفرنس کے باقائدہ آغاز سے قبل رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

امریکی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ ان ملاقاتوں کا مقصد بنیادی طور پر ان اقدامات پر غور کرنا ہے جن کے ذریعے دنیا میں ایٹمی دہشتگردی کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

ہندوستانی سفارتخانے کے حکام کے مطابق صدر اوباما اور وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ایٹمی دہشتگردی کے خطرے سے متعلق خیالات یکساں ہیں اور ہندوستان نے اس سلسلے میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر تمام ضروری اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ہندوستان کا کہنا ہے کہ اس کو پاکستان کے ایٹمی مواد کے دہشتگردوں کے ہاتھ لگ جانے کا خدشہ رہتا ہے اور اس سلسلے میں اس نے تشویش سے عالمی برادری کو آگاہ کیا ہے۔

براک اوباما کے ساتھ ملاقات میں من موہن سنگھ نے کہا کہ ایٹمی معاملات میں ہندوستان کا ریکارڈ صاف ہے اور تین چار دہائیوں سے اس نے اپنے ایٹمی مواد کو مکمل طور پر محفوظ رکھا ہے۔ پچھلے دنوں امریکہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ہندوستان میں ایٹمی مواد کی حفاظت سے متعلق بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے صدر براک اوباما کے ساتھ ملاقات میں اپنے اس مؤقف کو دہرایا کہ پاکستان نے پچھلے چند برسوں میں وہ تمام اقدامات کیے ہیں جن سے ملک کے ایٹمی ہتھیاروں اور مواد کو مکمل طور پر محفوظ بنایا گیا ہے۔

پاکستانی سفارتخانے کے حکام کے مطابق امریکی صدر اور انتظامیہ پاکستان کے انتظامات سے مطمئن ہیں۔ تاہم اہلکاروں کے مطابق پاکستان ایٹمی دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہے۔

اطلاعات کے مطابق صدر اوباما عالمی رہنماؤں سے توقع کر رہے ہیں کے وہ ایک فریم ورک پر متفق ہوں جس کے ذریعے اگلے چار برس میں ایسے تمام ایٹمی مواد کو محفوظ بنایا جائے جس کا شدت پسندوں کے ہاتھ لگنے کا اندیشہ ہو۔

امریکہ چاہتا ہے کہ عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے میں بھی اصلاحات کی جائیں اور ایٹمی مواد کو محفوظ بنانے کے لیے اس کے کردار کو بڑھایا جائے۔

خیال کیا جارہا ہے کہ کانفرنس کی توجہ کا مرکز تو ایٹمی مواد کو دہشتگردوں کی دسترس سے دور رکھنا ہی رہے گا لیکن دوطرفہ ملاقاتوں میں عالمی ایٹمی سیاست کے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے اور امریکہ کوشش کرے گا کہ روس، چین، ہندوستان وغیرہ کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں میں شمالی کوریہ اور ایران پر دباؤ میں اضافہ کرنے اور ان پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں نافذ کرنے کی راہ ہموار کر سکے۔

ساتھ ہی بعض اسلامی ممالک دو طرفہ ملاقاتوں میں اسرائیل کی ایٹمی صلاحیتوں کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔ ان ممالک نے واضع کیا ہے کہ دنیا کو ایٹمی دہشتگردی سے خطرے کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو اسرائیل کی ایٹمی طاقت سے بھی شدید خطرہ ہے۔

پچھلے دنوں اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہوکر ان ممالک کو موقع نہیں دینا چاہتے جو کانفرنس کی توجہ دیگر معاملات کی جانب سے موڑنا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما ایٹمی دہشتگردی کو ایک شدید خطرہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ تاہم دنیا کے کئی ممالک اس خطرے کو اتنا سنگین تصور نہیں کرتے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار کہتے ہیں کہ امریکہ اس کانفرنس کی توجہ کا مرکز ایٹمی شدت پسندی کو ہی رکھے گا تاہم دیگر معاملات کو دوسرے فورموں میں اٹھایا جاسکتا ہے۔

دو روزہ کانفرنس کے دوران ممالک اپنی اپنی تجاویز پیش کریں گے اور گزشتہ کئی ماہ سے ممالک کے درمیان جاری بات چیت میں سامنے آنے والی سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ جس کے بعد منگل کو کانفرنس کا متفقہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا اور فیصلوں کا اعلان ہوگا۔

اسی بارے میں