تھائی فوج کے سربراہ انتخابات کے حق میں

تھائی لینڈ میں فوج اور حکومت مخالف مظاہرین کے درمیان شدید لڑائی کے دو دن بعد تھائی فوج کے سربراہ نے پارلیمان کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مظاہرین اور فوج کے درمیان جھڑپیں
Image caption مظاہرین اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں اکیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں

جنرل انوپونگ پاؤجندا نے کہا کہ تھائی لینڈ کے بحران کا سیاسی حل ہونا چاہیئے۔

ان کا یہ بیان مظاہرین کے حکومت کے استعفے اور نئے انتخابات کے مطالبے سے بالکل مطابقت رکھتا ہے۔

تاہم اس کے بعد وزیرِ اعظم ابھیسٹ ویجاجیوا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی حکومت اور فوج متحد ہیں۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جنرل انوپونگ نے کہا کہ وہ تعطل ختم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کے متعلق ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔

’مسئلہ ایوان کو تحلیل کرنے سے حل ہو گا، لیکن اسے کب تحلیل کرنا ہے اس بات کا دارومدار مذاکرات کے نتائج پر ہے۔‘

جنرل انوپونگ کے بیان کے کچھ وقفے کے بعد وزیرِ اعظم ابھیسٹ نے ٹیلی ویژن پر بات کرتے ہوئے ہنگامے شروع کرانے کا الزام ’دہشت گردوں‘ پر لگایا اور حکومت، فوج، پولیس اور اتحادی جماعتوں کے درمیان بہتر تعاون پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اختتامِ ہفتہ پر ہونے والے تشدد کی تحقیقات کی جائیں گی جس میں 21 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں