جوہری مواد غلط ہاتھوں جانے کا ڈر

امریکی صدر براک اوباما کی طرف سے بلائی جانے جوہری کانفرنس میں شرکاء کو جوہری مواد غلط ہاتھوں میں جانے کےخطرات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔

Image caption اطلاعات کے مطابق امریکی صدر براک اوباما اور چین کے صدر ہو جنتاؤ کے درمیان ملاقات میں ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے

کانفرنس میں کہاگیا کہ جوہری مواد کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے اقدامات کیے جانا بہت ضروری ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے بلائی جانی والی اس کانفرنس میں پچاس ممالک کے رہنماء شریک ہیں۔جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک میں صرف اسرائیل کے وزیر اعظم کانفرنس میں شریک نہیں ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کانفرنس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ ان اطلاعات کے بعد کیا ہے کہ کچھ اسلامی ممالک کانفرنس کے دوران کوشش کریں گے کہ وہ جوہری پروگرام سے پردہ اٹھائے اور بتائے کہ اس کے پاس کتنا جوہری اسلحہ موجود ہے۔

اسرائیل کے بارے میں عام خیال ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں لیکن اسرائیل نے نہ تو کبھی اس کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔

فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے کہا ہے کہ ان کا ملک کبھی جوہری ہتھیار ختم نہیں کرے گا۔ انہوں نےکہا کہ جوہری ختم کر کے وہ اپنے ملک کی سکیورٹی کو خطرات لاحق نہیں کریں گے۔

امریکہ نے سابق سوویت ملک یوکرائن کی جانب سے یورینیم مواد کو دوہزار بارہ تک تلف کرنے کےاعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس دو روزہ کانفرنس میں ایران اور کوریا کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ یاکیا المونو نے اس موقع پر کہا ہے کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کو جوہری مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ ہر دوسرے روز انہیں جوہری مواد کی چوری یا سمگلنگ کا خبر ملتی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ پاکستان جیسے جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کو زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ اس کانفرنس کا پیغام تھا کہ جوہری معاملات میں ہر ملک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر برتاؤ ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ دوسری ممالک کی سکیورٹی کو خطرات لاحق نہ کرے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ ناقابل برداشت ہے اور ایرانی رہنماؤں کے لیے واضح پیغام ہے کہ اس کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گا۔

امریکہ کے دہشتگردی کےایک ماہر جان بریمن نے کانفرنس کو بتایا کہ القاعدہ جیسی تنظیمیں پچھلے پندرہ سالوں میں کئی بار جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر چکی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق امریکی صدر براک اوباما اور چین کے صدر ہو جنتاؤ کے درمیان ملاقات میں ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ اور چین نے فیصلہ کیا کہ دونوں کے سفارت کاروں پر مشتمل ایک کمیٹی ایران پر پابندیوں کےبارے میں غور کرے گا۔

اسی بارے میں