آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 اپريل 2010 ,‭ 04:42 GMT 09:42 PST

چین: زلزلے میں 760 ہلاک

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

چین کے مغربی صوبے چِنگھائی میں بدھ کوآنے والے چھ اعشاریہ نو شدت کے زلزلہ میں سات سو ساٹھ افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے ہیں۔

زلزلے کے بعد ہزاروں لوگوں نے شدید سردی میں کھلے آسمان تلے رات گزاری۔ امدادی ٹیمیں آفت زدہ علاقے میں پہنچ گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یوشو کاؤنٹی میں زلزلہ آنے سے تقریباً سات سو ساٹھ افراد ہلاک جب کہ گیارہ ہزار چار سو ستتر زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دو سو تینتالیس افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق چین کے وزیرِ اعظم وین جیاباؤ نے علاقے کا دورہ کیا ہے اور امدادی کاموں کا جائزہ لیا ہے۔

انہوں نے جنوب مشرقی ایشیا کا اپنا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔ چین کے صدر ہو جنتاؤ بھی جنوبی امریکہ کا اپنا دورہ ختم کر کے وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔

یوشو کے متاثرین

یوشو کے انتہائی بلندی پر ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے

انہوں نے کہا کہ زلزلے کو ایک بڑی آفت کہا اور اس بات کی تصدیق کی کہ وہ برازیل میں اجلاس کو چھوڑ کر واپس آ رہے ہیں۔

چین کا یہ صوبہ نیپال کی سرحد سے زیادہ دور واقع نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کی صبح آنے والے اس زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چینی فضائیہ نے ضروری سامان اور افرادی کمک روانہ کی ہے۔

یوشو تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور اسی وجہ سے امدادی کاموں میں دشواری پیش آ رہی ہے کیونکہ امدادی ٹیمیں اتنی بلندی پر کام کرنے کی عادی نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ بڑا مسئلہ زلزلے کے بعد مستقل آنے والے جھٹکے ہیں۔

حکام کے مطابق زلزلہ صرف دس کلومیٹر کی گہرائی میں آیا اور صوبائی دارالحکومت زننگ سے پانچ سو میل کے فاصلے پر واقع یوشو ضلع اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔

چین کے وزیرِ اعظم وین جیاباؤ ایک زخمی عورت سے مل رہے ہیں

چین کے وزیرِ اعظم وین جیاباؤ نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور زخمی افراد سے ملاقات کی

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں یقینی طور پر اضافہ ہوگا۔

یوشو کا قصبہ جئیگو بہت بری طرح تباہ ہوا ہے اور مقامی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ قصبے کی قریباً تمام عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اب تک تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے سینکڑوں افراد کو نکالا جا چکا ہے۔

چنگھائی، چین کا دور افتادہ مغربی پہاڑی صوبہ ہے۔ بدھ کی صبح آنے والے زلزلے کا مرکز یوشو نامی ضلعے کے قریب تھا جہاں کے ایک گاؤں جیئگو کی اسی فیصد عمارتیں زمیں بوس ہو گئی ہیں۔ اس گاؤں کی آبادی ایک لاکھ کے لگ بھگ تھی۔

اگرچہ چنگھائی میں آنے والے زلزلے کی شدت چھ اعشاریہ نو تھی لیکن اس کا مرکز سطح زمین سے صرف دس کلو میٹر نیچے تھا جس کی وجہ سے زیادہ تباہی پھیلی ہے۔

ایک مقامی اہلکار نے بتایا کہ گھروں کی تباہی کا منظر بہت برا ہے۔ اسی فیصد سے زائد مکانات، جو گارے اور اینٹوں سے بنے ہوئے تھے، گِر گئے ہیں اور لوگ ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم اپنی مدد آپ کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس امدادی کارروائیوں کے لیے مشینری اور لوگوں کی کمی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ چینی حکومت نے گرد و نواح کے صوبوں سے ملبہ ہٹانے والی بھاری مشینری چنگھائی کے لیے روانہ کر دی ہے۔ صوبے کا صدر مقام متاثرہ ضلعے یوشو سے آٹھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ زلزلے کے نتیجے میں اس دشوار گزار پہاڑی صوبے میں سڑکوں اور شاہراہوں پر مٹی کے تودے گرنے سے زمینی رابطہ کٹ چکا ہے اور خدشات ہیں کہ باہر سے امداد پہنچنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

زلزلہ متاثرین کی امداد

چیئگو کے قریب ایک چھوٹا سا ائر پورٹ تو ہے لیکن وہ بھی امدادی سامان سے بھرے چھوٹے جہازوں کے ساتھ بھر چکا ہے۔ مقامی لوگ اور رضا کار ہلکے ساز و سامان اور ہاتھوں کے ساتھ عمارتوں کا ملبہ ہٹا کر زندگی کے آثار ڈھونڈ رہے ہیں یا لاشوں کو نکال رہے ہیں۔

جس وقت زلزلہ آیا اس وقت سرکاری دفاتر کھل چکے تھے اور بچے سکولوں میں دن کا آغاز کر رہے تھے۔ بچوں سے بھرے ایک سکول کے زمین بوس ہونے کی اطلاع ہے جبکہ ایک سرکاری دفتر سے چھپن افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔

زلزلے کے نتیجے میں چیئگو کے مقامی ڈیم میں دراڑ پڑ گئی ہے اور بیشتر متاثرین سیلاب کے خوف سے قریبی پہاڑیوں پر چڑھ گئے ہیں۔ دن ڈھلنے کے بعد سردی میں اضافہ ہو گیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ ہزاروں زخمی اور متاثرین، بے سر و سامانی کے عالم میں چیئگو کی گلیوں اور سڑکوں پر پڑے ہیں۔

خوراک، ادویات، گرم کپڑوں، بستروں اور خیموں کی اشد ضرورت ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ امدادی راستے خراب ہونے کی وجہ سے امدادی سامان پہنچنے میں کافی وقت لگے گا اور تب تک مرنے والوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں چنگھائی کے ہمسایہ صوبے سیچوان میں زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں ستاسی ہزار افراد ہلاک یا لاپتہ اور پچاس لاکھ بے گھر ہو گئے تھے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔