یورپ:فضائی بحران بدستور جاری

آئس لینڈ میں آتش فشاں سے اٹھنے والے گردوغبار کے بادلوں کے باعث پیدا ہونے والا عالمی فضائی بحران جاری ہے اور یورپی فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے لاکھوں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اب تک بیس ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور ان میں سے کچھ ممالک نے پیر تک اپنی ’ایئر سپیس‘ بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

فضائی بحران شدید تر، لاکھوں مسافر متاثر

یورپ پر راکھ کے بادل

لاکھوں مسافر پروازیں بند ہونے کی وجہ سے ہوائی اڈوں اور مختلف شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس بحران سے بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کو منسوخ ہونے والی پروازوں اور مختلف ہوائی اڈوں پر پھنسے ہوئے مسافروں کو ہوٹلوں میں قیام مہیا کرنے سے ہوٹلوں کے بلوں کی صورت میں شدید مالی خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایاٹا کے مطابق اس صورتحال کی وجہ سے فضائی کمپنیوں کو قریباً دو سو ملین ڈالر روزانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔

برطانوی حکام نے اپنی ائر سپیس میں زیادہ تر پروازوں کی اڑان پر عائد پابندی میں اتوار کی شام چھ بجے تک توسیع کر دی ہے جبکہ بین الاقوامی فضائی صنعت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ابھی امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی‘۔ شمالی فرانس اور شمالی اٹلی میں بھی حکام نے ہوائی اڈے کم از کم پیر تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی دوران دو فضائی کمپنیوں نے تجرباتی پروازیں چلائی ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ اب فضائی سفر محفوظ ہے یا نہیں۔ ولندیزی فضائی کمپنی کے ایل ایم کے مطابق ان کے ایک بوئنگ 737 طیارے نے ولندیزی فضا میں تیرہ کلومیٹر کی بلندی پر پرواز کی اور اس دوران کسی قسم کی مشکل درپیش نہیں آئی۔

جرمنی کی لفتھانسا ائرلائن نے بھی کہا ہے کہ اس نے فرینکفرٹ سے میونخ کے درمیان متعدد پروازیں چلائی ہیں۔کمپنی کے ترجمان کے مطابق ’فرینکفرٹ آمد پر تمام ہوائی جہازوں کا معائنہ کیا گیا اور دورانِ پرواز نہ فیوزلاج اور انجن اور نہ ہی کاک پٹ کی کھڑکیوں کو کسی قسم کا نقصان پہنچا‘۔

Image caption لاکھوں مسافرمختلف ہوائی اڈوں اور شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں

ماہرینِ ارضیات و موسمیات کا کہنا ہے کہ راکھ کے بادلوں کے جلد منتشر ہونے کا امکان نہیں ہے۔ برطانوی موسمیاتی ادارے کے ملازم اور ماہرِ موسمیات گریم لیش کا کہنا ہے کہ براعظم یورپ کے اوپر موجود ہلکی ہواؤں اور ہوا کے زیادہ دباؤ کی وجہ سے اس بادل کے جلد چھٹنے کے زیادہ امکانات نہیں ہیں۔ خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم آنے والے چند دنوں میں کچھ زیادہ تبدیلی نہیں دیکھ رہے‘۔

انٹرنیشنل ائر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (ایاٹا) کا بھی یہی کہنا ہے کہ اتوار کو حالات میں بہتری کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تنظیم کے ترجمان سٹیو لوٹ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ اس وقت ہم پورے یورپ میں زیادہ پروازیں چلتی نہیں دیکھ رہے ہیں‘۔

یورپ کے اڑتیس ممالک میں فضائی ٹریفک کنٹرول کرنے والے ادارے یورو کنٹرول کا کہنا ہے کہ سنیچر کو پورے یورپ کی مجوزہ بائیس ہزار میں سے سترہ ہزار پروازیں منسوخ کی گئیں جبکہ جمعہ کواٹھائیس ہزار میں سے اٹھارہ ہزار پروازیں منسوخ کرنا پڑی تھیں۔

خیال رہے کہ جمعرات سے شمالی اور وسطی یورپ کے بیشتر ممالک نے آئس لینڈ کے آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ کی وجہ سے یا تو اپنی فضائی حدود یا پھر اپنے اہم ہوائی اڈے بند کر دیے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ راکھ کے اس بادل میں ریت، شیشے اور پتھر کے ذرات موجود ہیں جو جہازوں کے انجن کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

فضائی سروس کی عدم موجودگی کی وجہ سے شمالی یورپ میں مسافر ٹرینوں، بسوں اور فیری کی مدد سے اپنی منزلِ مقصود پر پہنچنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یورو سٹار کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی تاریخ میں ایک دن میں اتنے مسافر نہیں دیکھے اور اس کی تمام ٹرینیں پر پیر تک ایک بھی نشست میسر نہیں ہے۔

یورپ کے اوپر ایک وسیع ’نو فلائی‘ زون کا مطلب یہ بھی ہے کہ بہت سے عالمی رہنما اتوار کو ہونے والے پولینڈ کے صدر کے جنازے میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ امریکی صدر براک اوباما نے پہلے ہی پولینڈ کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

جرمن چانسلر اینگلا مرکل جنہوں نے جمعہ کو دورۂ امریکہ کے بعد واپس جرمنی پہنچنا تھا، اب اٹلی پہنچی ہیں اور تمام جرمن ہوائی اڈوں کی بندش کی وجہ سے وہ بذریعہ بس جرمنی جائیں گی۔

اسی بارے میں