فضائی کمپنیوں کی جانب سے پابندی پر نظر ثانی کی اپیل

یورپی ممالک کے وزیر تجارت آج ایک وڈیو کانفرنس میں فضائی سفر پر عائد پابندیوں کو کم کرنے پر غور کرنے والے ہیں۔ پچھلے پانچ روز سے یورپ کے بیس ممالک نے آئس لینڈ میں آتش فشاں سے اٹھنے والے دھول کی وجہ جہازروں کی پروازوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس سے اڑسٹھ لاکھ مسافر متاثر ہو چکے ہیں۔

یعض حلقوں کی جانب سے یورپی یونین کے ممالک کے ردعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

فضائی کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کی جانب سے جہازوں کی پرواز پر لگائی جانے والی پابندی پر فوری نظر ثانی کی اپیل کی گئی ہے۔نظر ثانی کا مطالبہ کرنے والی تنظیمیں اے سی آئی یورپ اور اے ای اے یورپ کے زیادہ تر ہوائی اڈوں اور فضائی کمپنیوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔

یورپ میں کچھ فضائی کمپنیوں نے تجرباتی پروازوں کے بعد کہا ہے کہ بظاہر جہازوں پر آتش فشاں سے اٹھنے والے گرد و غبار کا اثر نظر نہیں آیا۔

یورپ میں تقریباً بیس ممالک نے اپنی فضائی حدود میں پرواز پر پابندی لگائی ہوئی ہے اور ان میں سے کچھ نے جہازوں کی پرواز پیر تک روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم آئس لینڈ کے راکھ اگلنے والے آتش فشاں کے قریبی علاقوں کا معائنہ کرنے والے ایک ماہر ارضیات میگنس گڈ منڈسن نے کہا کہ ’یہ کہنا اب بھی مشکل ہے کہ فضاء میں آتش فشاں سے خارج ہونے والے گردوغبار کا اثر کب تک برقرار رہتا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’ہمارے لیے یہ کہنا ناممکن ہے۔ ہمارے پاس ایسا کوئی ڈیٹا یا شواہد نہیں جن سے یہ پتہ چل سکے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے۔ ہم نے آج اور کل جو پیمائشیں کی ہیں اس کی بنیاد پر ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ ابتدائی 72 گھنٹوں کے دوران آتش فشاں کا دہانہ 750 ٹن فی سیکنڈ کے حساب سے راکھ اگلتا رہا ہے تو ہماری اصطلاح میں یہ کوئی بہت بڑا نہیں بلکہ معتدل اخراج ہے۔‘

پروازیں اس خطرے کے تحت روکی گئی ہیں کہ آتش فشاں سے اٹھنے والا گرد و غبار جہازوں کے انجن کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اندازے کے مطابق پابندیو کی دوران فضائی کمپنیوں کو یومیہ بیس کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

فضائی کمپنیوں کی دونوں نمائندہ تنظیموں نے کہا کہ آئس لینڈ میں آتش فشاں کا پھٹنا غیر معمولی واقعہ نہیں اور دنیا کے دوسرے حصوں میں ایسی صورتحال میں اتنے سخت اقدامات نہیں لیے جاتے۔

اختتام ہفتہ آزمائشی پرواز کرنے والی کمپنیوں میں ہالینڈ کی ’کے ایل ایم‘ شامل ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکیٹو پیٹر ہارٹمین نے جو اس پرواز کے دوران جہاز میں موجود تھے کہا کہ کوئی ’غیر معمولی‘ بات محسوس نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹیکنیکل معائنے کے بعد بھی کوئی نقص سامنے نہ آیا تو ہم جلد سے جلد پروازیں شروع کرنے کے لیے درخواستیں دیں گے۔

ہالینڈ کی پائلٹ ایسو سی ایشن نے بھی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ ان کے خیال میں پروازیں دوبارہ شروع کرنے میں کوئی فکر کی بات نہیں۔

دریں اثناء برٹش ایئر ویز بھی آزمائشی پرواز شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جرمنی کی دو بڑی فضائی کمپنیوں لفتھانسا اور ایئر برلن اور فرانس کی کمپنی ایئر فرانس نے کہا کہ انہوں نے بھی بغیر کسی مسئلے کے آزمائشی پروازیں کی ہیں۔

بی بی سی کے کاروباری امور کے مدیر رابرٹ پیسٹن نے کہا کہ برٹش ایئر ویز اور دیگر فضائی کمپنیاں کا اندازہ ہے کہ انہیں جلد سے جلد بھی جمعرات تک پرواز کی اجازت نہیں ملے گی۔

موسمیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ ہواؤں کے رخ بتاتے ہیں فضا ہفتے کے آخر تک صاف ہو گی۔ یوروکنٹرول کے مطابق اتوار کو یورپی فضائی حدود میں معمول کی چوبیس ہزار پروازوں کے مقابلے میں صرف چار ہزار پروازیں متوقع تھیں۔

جمعرات سے شمالی اور وسطی یورپ کے ممالک نے یا تو فضائی حدود میں داخلہ روک دیا ہے یا پھر اہم ہوائی اڈے بند کر دیے ہیں۔

اسی بارے میں