عراق: القاعدہ کے دو سینئیررہنما ہلاک

عراقی وزیر اعظم نے عراق میں القاعدہ کے دو انتہائی مطلوب رہنماؤں کی ہلاکتوں کی تصدیق کردی ہے۔

عراقی  وزیر اعظم  نوری المالکی
Image caption عراقی وزیر اعظم نوری المالکی

قومی ٹیلی وژن پر اس کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نوری المالکی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے القاعدہ کمانڈروں کی شناخت ابو عمر البغدادی اور ابو ایوب المصری کے ناموں سے ہوئی ہے جو انتہائی مطلوب تھے۔

اس موقع پر عراقی وزیر اعظم نے ہلاک ہونے واے ان دونوں کی تصاویر بھی دکھائیں۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں رہنما بغداد کے مغرب میں واقع صوبہ صلاح الدین میں امریکہ اور عراق کے ایک مشترکہ آپریشن میں مارے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ افراد ایک مکان کے تہہ خانے میں چھپے ہوئے تھے جو میزائلوں کے حملے میں تباہ ہوگیا جس کے بعد ان کی لاشیں زیرزمین بنی خفیہ پناہ گاہ سے باہر نکالی گئیں۔

عراقی وزیر اعظم کے مطابق کارروائی کے دوران ایسے کمپیوٹرز بھی برآمد ہوئے ہیں جن میں اوسامہ بن لادن اور ان کے نائب ایمن الزواہری کو لکھے گئے ای میل ملے ہیں۔

عراقی حکومت کے مطابق دونوں رہنما گزشتہ روز عراقی سیکیورٹی فورسز کے ایک میزائل حملے میں مارے گئے تھے اور ان کی شناخت میڈیکل ٹیسٹ کرن کے بعد کی گئی۔

عراق کے حکام کا کہنا ہے کہ عراقی انٹیلی جنس کی ایک ٹیم نے بغداد کے مغرب میں صوبے صلاح الدین میں ان رہنماؤں کے ٹھکانوں کا پتہ چلایا جس کے بعد وہاں میزائلوں سے کیے گیے حملے میں دونوں کی موت واقع ہوئی۔

ادھر امریکی دار الحکومت واشنگٹنمیں امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے اقاعدہ کے ان رہنماؤں کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے عراقی افواج کی بھی تعریف کی اور کہا کہ اس کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراق اب زیادہ بہتر طور پر اپنی سلامتی کے معاملات دیکھنے کے قابل ہے۔

عراق میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل ریئمنڈ اودیئرنو نے ایک بیان میں کہا کہ عراقی سیکیورٹی فورسز کو اس کارروائی میں امریکی مدد بھی حاصل تھی۔ بیان کے مطابق حملے میں المصری کا ایک معاون اور البغدادی کا بیٹا بھی مارا گیا جبکہ اسی دوران امریکی فوج کا ہیلی کاپٹر گرکر تباہ ہونے سے ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہوا۔

یاد رہے کہ القاعدہ کے ان دونوں رہنماؤں کی ہلاکت اور گرفتاریوں کے متعلق اس سے پہلے بھی خبریں آتی رہی ہیں جو بعد میں غلط ثابت ہوئیں

اسی بارے میں