پروازوں کی معطلی کا اثرکاروبار پر

آتش فشاں کے راکھ آلود بادلوں کی وجہ سے پروازیں بند ہونے کے باعث جنوبی ایشیا سے ملبوسات اور کھانے پینے کی ضائع ہوجانے اشیاء کی کھیپ یورپ روانہ نہ ہوسکیں جس سے کاروباراور اس کے ساتھ سیاحت کی صنعت بھی متاثر ہورہی ہے۔

Image caption پروازیں بند ،مسافرپریشان

خطے کا کوئی ملک اس بحران کے معاشی اثرات سے محفوظ نہیں ہے تاہم حکام کہتے ہیں کہ سب سے پہلی ترجیح ہزاروں مسافروں کی مشکلات رفع کرنا ہے۔

پاکستان انٹر نیشنل ایر لا ئینز کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یورپ کی پروازوں کی معطلی سے 25 ملین ڈالر نقصانات کا تخمینہ ہے۔ ابھی تک 65 پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں جن سے اب تک دس ملین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔

اگر معمول کی پروازیں بحال ہو بھی جائیں تب نقصان میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہی ہوگا۔

ترجمان کے مطابق ان کی ایر لائن کے کوئی سولہ ہزار مسافر پاکستان اور یورپ میں پھنسے ہوئے ہیں۔

بھارت، بھوٹان، سری لنکا اور مالدیپ میں سیاحت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ نیپال اور بھوٹان میں حالات اور بھی خراب ہیں کیونکہ یہ سیاحوں کا موسم تھا۔ نیپال میں ان دنوں صرف نیپال میں کوئی بیس ہزار کے لگ بھگ کوہ پیما آتے ہیں جن میں زیادہ تعداد امریکہ اور یورپ سے آنے والوں کی ہوتی ہے۔

یہ سیاح زیادہ تر کھٹمنڈو اور پوکارا میں پیشگی ہوٹل اور مہمان خانے بک کراکے آتے ہیں۔ جو مقامی کاروباری حلقوں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔

بھارت کے شمال میں بھی سال کے اس چند ماہ میں سیاحت بہت مقبول ہے۔

بھارت کی سول ایوی ایشن کے ایک اعلی اہلکار کے مطابق اکتالیس ہزار مسافر پروازوں کے بند ہونے سے متاثر ہوئے ہیں اور اس کیفیت سے باہر نکلنے میں کچھ وقت لگے گا۔

ایر انڈیا کی لندن اور پیرس کے پروازیں تو اب بھی بند ہیں تاہم امریکہ اور کینڈا کے لیے براستہ قاہرہ اور ایتھنز پروازیں شروع کردی گئی ہیں۔

اس دوران جن مسافروں کے ویزوں کی میعاد ختم ہوگئی تھی انھیں جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا ہے جبکہ کئی ہوائی کمپنیوں نے یہ جواز دیکر مسافروں کا کی رہائش اور کھانے پینے کے اخراجات اٹھانے سے انکار کردیا ہے کہ وہ قدرتی آفات کے ذمے دار نہیں ہیں۔

بنگلہ دیش ، پاکستان، سری لنکا اور بھارت کے برآمدکندگان اپنے نقصانات کے اندازے لگانے میں مصروف ہیں۔ ذھاکہ اور کولمبو میں ملبوسات کے ایسے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جو روانے نہیں ہوسکے۔ بنگلہ دیش تاجروں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ تاخیر ہونے سے یورپی خریدار مال لینے سے بھی انکار کرسکتے ہیں۔

جبکہ کھانے پینے کاسامان مثلاً چائے، مسالے اور مچھلی وغیرہ کی بر آمدات بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

اسی بارے میں