آخری وقت اشاعت:  بدھ 21 اپريل 2010 ,‭ 18:22 GMT 23:22 PST

فضائی ٹریفک جزوی بحال، مسافروں کی مشکلات برقرار

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

(آئس لینڈ میں آتش فشاں نے ایک بار پھر دھواں اگلنا شروع کر دیا ہے۔ امریکی ٹی وی نیٹ ورک اے بی سی کے نامہ نگار نیل کارلِنسکی کا آنکھوں دیکھا حال۔)

آئس لینڈ کے آتش فشاں سے نکلنے والے راکھ کی وجہ سے چھ روز قبل بند کی جانے والی یورپی فضائی حدود کے کھلنے کے بعد اب ہوائی اڈوں پر شدید رش کی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

برطانیہ میں منگل کی رات سے تمام ہوائی اڈے کھول دیے گئے ہیں جبکہ پیرس، ایمسٹرڈیم اور فرینکفرٹ کے ہوائی اڈوں سے بھی چند طیاروں نے پرواز کی ہے تاہم جرمنی اور آئرلینڈ کی فضائی حدود اب بھی جزوی طور پر بند ہے۔

تقریباً ایک ہفتے کے بعد ہوائی اڈوں پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے جہاں اپنی اپنی منزل پر پہنچے والے لوگ استقبال کرنے والوں کو اپنے طویل سفر کی داستانیں سنا رہے تھے۔ تاہم اب بھی بڑی تعداد میں پروازیں منسوخ ہو رہی ہیں۔

گزشتہ جمعرات سے یورپ میں تقریباً پچانوے ہزار پروازیں منسوخ ہوئی ہیں۔

ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر عام طر پر بدھ کے روز بارہ سو پچاس جہاز اترتے یا پرواز کرتے ہیں لیکن اس بار پہلی پرواز صبح آٹھ بج کر چھ منٹ پر روانہ ہوئی۔

برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے آزمائشی پرواز کرنے والے ہوائی جہاز کے انجن کا معائنہ کرنے کے بعد ائر سپیس کو کھولنے کا فیصلہ کیا۔

سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ تجرباتی طور پر چلائے گئے ہوائی جہاز کے انجن کے معائنہ سے پتہ چلا ہے کہ کم راکھ کے علاقوں میں اس کی برداشت کا معیار بڑھ گیا ہے‘۔

کلِک برطانوی مسافروں کے لیے بحری جہاز

برطانیہ کی کچھ فضائی حدود میں پروازوں پر پابندی برقرار رہے گی لیکن یہ ممنوعہ فضائی حدود پہلے کے مقابلے میں بہت تھوڑے علاقے پر مشتمل ہوگی۔

برطانوی ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے کھلنے کے بعد شروع میں تمام پروازیں بحال نہیں ہوں گی لیکن ائر لائنز سے ہر ممکن طریقے سے تعاون کیا جائے گا تاکہ وہ لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا سکیں جبکہ لوگ سفر کرنے سے پہلے اپنی ائر لائنز سے رابطہ کریں۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

یورپ میں جزوی طور پر ہوائی ٹریفک بحال ہونے کے بعد یورپ میں گزشتہ جمعرات سے پھنسے تمام ہزاروں مسافروں کو اپنی منزل پر پہنچانے میں متعدد ہفتوں کا وقت لگے گا۔ ہوائی اڈوں پر رش کی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ یورپ میں گزشتہ جمعرات سے راکھ کے بادلوں کی وجہ سے تقریباً پچانوے ہزار پروازوں کو منسوخ کیا جا چکا ہے۔

یورپ کی ائر ٹریفک کنٹرول اتھارٹی کا کہنا ہے کہ جمعرات تک آدھے یورپ سے تقریباً ستائیس ہزار طیارے پرواز کریں گے۔ منگل کی رات کو برطانیہ میں کئی روز کے بعد گلاسگو اور ایڈنبرا سے اندرون ملک پروازیں روانہ ہوئیں۔ ایمسٹرڈم کے سکیپول ائرپورٹ سے تین ہوائی جہازوں نے نیویارک ، شنگھائی اور دبئی کے لیے پرواز کی جبکہ جرمنی کی لفتھانسا ائرلائن کا کہنا تھا کہ ان کے کچھ ہوائی جہازوں نے پیر کی شام فرینکفرٹ سے اڑان بھری ہے۔

برطانیہ کے ٹرانسپورٹ سیکرٹری لارڈ ایڈونز جنھوں نے سب سے پہلے پروازوں کی دوبارہ اجازت کا اعلان کیا تھا نے ان خبروں کو رد کیا کہ پروازوں کی دوبارہ اجازت دینے کا فیصلہ ہوائی کمپنیوں کے دباؤ کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

آتش فشاں پھٹنے سے بننے والے راکھ آلود بادلوں کے باعث چھ دن سے پروازیں معطل تھیں

برطانیہ کے وزیراعظم گورڈن براؤن کا کہنا ہے کہ ’حکومت، سول ایوی ایشن اتھارٹی، ائر لائنز، ہوائی جہاز بنانے والی کمپنیوں کے مل کر کام کرنے کی وجہ سے موجودہ صورتحال سامنے آئی ہے جس کی وجہ سے بیرون ممالک میں پھنسے ہوئے ہزاروں برطانوی واپس ملک آ سکیں گے‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ صورتحال پر بہت باریک بینی سے نظر رکھیں گے کیونکہ تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔

پیر کو یورپی یونین کے وزرائے ٹرانسپورٹ کا ایک اجلاس ہوا تھا جس میں ہوائی پروازوں پر لگی بعض پابندیوں کو ہٹانے پر اتفاق ہوا تھا۔ اس اجلاس کے بعد شمالی یورپ میں تین زون بنائے گئے ہیں۔ پہلا جہاں آتش فشاں کا اثر سب سے زیادہ ہے وہاں پروازوں پر پابندی ہوگی، دوسرا زون وہ ہے جہاں اس کا اثر کم ہے وہاں بعض پروازیں اڑیں گی اور تیسرا زون سبھی پروازوں کے لیے کھلا ہوگا۔

ہوائی اڈوں اور ائر لائینز کے مطابق پروازوں پر پابندی کی وجہ سے اکثر ائر لائینوں کو ایک سو تیس ملین پاؤنڈ روزانہ کا نقصان ہو رہا تھا۔ برطانوی کمرشل جہازوں کے پائلٹوں کی ایسوسی ایشن ’بیلپا‘ کا کہنا ہے کہ فضائی کمپنیوں کو دیوالیے سے بچانے کے لیے حکومت کو اگے آنا چاہیے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جنوبی آئس لینڈ کا آتش فشاں اب زیادہ لاوا اگل رہا ہے اور راکھ کے بادلوں میں کمی آ رہی ہے تاہم یہ صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل پیر کو آئس لینڈ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق عندیہ دیا گیا تھا کہ راکھ آلود بادل میں کمی ہونی شروع ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں اوپن یونیورسٹی کے ڈیوڈ راتھری کا کہنا تھا گو کہ آتش فشاں کے اردگرد ماحول پوری طرح مستحکم نہیں ہوا ہے لیکن راکھ آلود بادل چھٹنے کے آثار پیدا ہو چلے ہیں۔

ہوائی اڈوں اور فضائی کمپنیوں کے مطابق پروازوں پر پابندی کی وجہ سے اکثر فضائی کمپنیوں کو ایک سو تیس ملین پاؤنڈ روزانہ کا نقصان ہو رہا تھا۔ برطانوی کمرشل جہازوں کے پائلٹوں کی ایسوسی ایشن ’بیلپا‘ کا کہنا ہے کہ فضائی کمپنیوں کو دیوالیے سے بچانے کے لیے حکومت کو اگے آنا چاہیے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔