ترقی پذیر ممالک کے کسانوں کے لیے نیا عالمی فنڈ

ترقی پذیر ممالک کے کسانوں کے لیے امریکہ میں ایک نیا عالمی فنڈ قائم کیا گیا ہے۔

بل گیٹس
Image caption فنڈ کے افتتاح کے موقع پر بل گیٹس بھی موجود تھے

امریکی وزیرِ خزانہ ٹِموتھی گیتھنر نے جمعرات کو واشنگٹن میں اس فنڈ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹر سافٹ ویئر کمپنی مائیکروسافٹ کے بانی بِل گیٹس اور کینیڈا، سپین اور جنوبی کوریا کے نمائندے بھی موجود تھے۔

دو سال قبل تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معاشی بحران کا آغاز، دنیا بھر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے۔ مہنگائی کے زیادہ تر متاثرین غریب ممالک، خصوصاً افریقی خطے کے وہ لوگ تھے جو پہلے ہی تنگدستی کے شکار تھے۔ تقریباً نوے کروڑ ڈالر کے گلوبل ٹرسٹ فنڈ کا افتتاح کرتے ہوئے مائیکرو سافٹ کے بانی بِل گیٹس نے کہا کہ غربت میں کمی کا بہترین طریقہ، ترقی پذیر ممالک کے چھوٹے کسانوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ زیادہ خوراک پیدا کر سکیں۔

بِل گیٹس کا کہنا تھا کہ ’دنیا کے سب سے زیادہ غریب لوگ وہ کسان ہیں جن کے پاس انتہائی محدود زمینیں ہیں۔ جب تک وہ اپنی پیداوار نہیں بڑھائیں گے، تب تک وہ غربت کے چکر میں پھنسے رہیں گے۔ اس لیے ان کی مدد کرنا غربت کے خاتمے کی کنجی ہے۔‘

گلوبل ٹرسٹ فنڈ کو چلانے کی ذمہ داری عالمی بینک کو سونپی گئی ہے۔

فنڈ کی رقم کو زیرِ کاشت زمین اور آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے، دیہی علاقوں میں سڑکوں کا جال بچھانے اور پیداوار بڑھانے کے لیے کسانوں کو بہتر بیج اور کھاد فراہم کرنے پر خرچ کیا جائے گا۔ گزشتہ سال دنیا کے آٹھ امیر ترین ممالک جی ایٹ نے اپنے اجلاس میں اعتراف کیا تھا کہ تیس سالوں سے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کے فقدان نے انتہائی غربت کو جنم دیا۔ جی ایٹ ممالک نے غریب ممالک میں خوراک کے تحفظ کے لیے بائیس ارب ڈالر کا وعدہ کیا تھا۔ گلوبل ٹرسٹ فنڈ کا قیام اس وعدے کی پہلی قسط ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے جی ایٹ ممالک کی طرف سے اربوں ڈالر کے مزید امدادی کام ہونا باقی ہیں۔

اسی بارے میں