بغداد دھماکے: فرقہ وارانہ تناؤ کی کوشش؟

عراق کے دارالحکومت بغداد کے علاقے صدر سٹی کا شمار چند ماہ پہلے تک شہر کے محفوظ علاقوں میں سے ہوتا تھا۔

بغداد میں دھماکے، فائل فوٹو
Image caption بغداد میں جمعہ کو ہونے والے متعدد بم دھماکوں میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے

بغداد کے شمالی میں واقع اس علاقے میں داخل ہونے اور باہر جانے کے صرف چند ایک ہی راستے تھے جن کی بڑی سختی سے نگرانی کی جاتی تھی۔

اب فوج اور پولیس اہلکاروں نے علاقے کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے اور گاڑیوں کو واپس بھیجا جا رہا ہے لیکن ان حفاظتی اقدامات میں تاخیر کر دی گئی۔

عراق: دھماکوں میں اٹھاون افراد ہلاک اور سو زخمی

لیکن نقصان ہو چکا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ شیعہ اکثریت کے اس علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی چیک پوسٹوں کے باوجود بمبار کس طرح داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔تاہم اس سے وسیع سوال یہ ہے صدر سٹی اور دیگر شیعہ اکثریتی آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہاں سے کیا ردعمل آئے گا۔

ابھی تک کسی گروپ نے حالیہ حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن بہت سارے ان حملوں کے طریقہ کار کو دیکھیں گے اور خود سے کوئی نتیجہ نکالیں گے جو جمعہ کی نماز کے لیے جانے والے تمام شیعہ گروہوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگوں پر کیے گئے ہیں۔

حکام نے القاعدہ کو بغداد میں ہونے والے حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ القاعدہ نے اتوار کو سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے اپنے سینیئر رہنماوں کا بدلہ لیا ہے۔

کسی کی جانب سے ذمہ داری قبول نہ کرنے کی وجہ سے اس مفروضہ کی تصدیق کرنا مشکل ہو گا۔لیکن ان حملوں کا بے نتیجہ ہونا مشکل ہے ، جس کسی نے یہ حملے کیے ہیں ان کا مقصد شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کو ہوا دینا تھا۔

صدر سٹی کے رہائشی سنی فرقے کی جانب اشارہ کرنے والے اشتعال انگیز بیانات کی مخالفت کرتے ہیں۔

بہت سارے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے غیر ملکی شدت پسندوں کا ہاتھ ہے اور یا ملک میں نامکمل پارلیمانی انتخابات سے پہلے یا بعد کی صورتحال سے ہے۔

جمعہ کو بغداد میں ہونے والے حملے ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب عراق میں غیر یقینی کی سی صورتحال ہے ۔ سیاست دان بغداد میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے منتظر ہیں تاکہ حکومت سازی کے عمل کے لیے بات چیت شروع کی جا سکے۔

ہو سکتا ہے کہ اس عمل کو مکمل ہونے میں مہینے لگیں لیکن اس کے بعد بھی بہت ساری چیزیں پر منحصر ہو گا کہ کیا عراق کے تمام مذہبی فرقوں اور لسانی گروہ اس سیاسی عمل میں شامل ہوتے ہیں۔

اس دوران اس بات کا ڈر ہے کہ بمبار عراق میں اکثریتی شیعہ اور اقلیتی سنی فرقے کے درمیان امن کو نقصان کو پہنچنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

اور اسی دوران بہت سارے لوگ کہیں گے کہ وہ امید کرتی ہیں کہ فرقہ وارانہ تشدد کے خونی دن پیچھے رہ گئے ہیں، ابھی یہ یادیں تازہ ہیں جب خونی فرقہ وارانہ لڑائی نے ملک کو تقریباً بڑی خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچنا دیا تھا۔

اسی بارے میں