’مالیاتی اصلاحات کی مخالفت نہ کریں‘

امریکی صدر براک اوباما نے بینکاری نظام کے اصلاحات پر تنقید کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر یہ اصلاحات نہ کیے گئے تو معاشی بحران کا دوبارہ خطرہ ہے۔

صدر اوباما نے یہ بات نیو یارک کے کوپر یونین کالج میں بینک اہلکاروں اور وال سٹریٹ کے تاجروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ اس نظام کے قواعد و ضوابط کو مضبوط کرنا اس شعبے کے مفاد میں ہے اور بینکوں اور تاجروں کو اس کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جن اداروں کا صارفین کے ساتھ ڈاکو نما رویہ رہا ہے ان پر پابندی لگنی چاہیے تاکہ وہ کبھی آئندہ یہ نہ کر سکیں۔

صدر نے اس اجلاس میں موجود مالیاتی شعبے میں کام کرنے والے افراد کو یقین دہانی کرائی کہ وہ فری مارکٹ کے خلاف نہیں ہیں لیکن فری مارکیٹ کا یہ مطلب نہیں کہ آپ لالچ میں اور بغیر کسی روک ٹوک کے پیسے بناتے جائیں، دولت چھینتے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ’وال سٹریٹ پر لوگ یہ بھول چکے تھے کہ ان کے ہر فیصلے سے کوئی عام خاندان متاثر ہو رہا تھا ، جو گھر خریدنے کی کوشش کر رہا تھا، تعلیم کے لیے پیسے جمع کر رہا تھا یا پھر ریٹائرمنٹ کے واسطے رقم جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غلط کام کرنے والے اداروں اور کمپنیوں کو سزا دی جانے کی گنجائیش ضروری ہے۔ انہوں نے اجلاس میں شریک وال سٹریٹ میں کام کرنے والے ان افراد سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی مخالفت نہ کریں بلکہ اصلاحات کے لیے اس جد و جہد میں ان کا ساتھ دیں۔

مالیاتی شعبےکے لیے قواعد و ضابط سخت کرنے سے متعلق ایک بل پر کانگریس کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں اس ہفتے غور کیا جائے گا ۔ ایوان نمائندگان نے یہ بل دسمبر میں منظور کیا تھا۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹ جماعت کو 51 - 49 سے برتری ہے لیکن بل منظور ہونے کے لیے انہیں مزید ایک ووٹ کی ضرورت ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ بل کی مخالفت کرنےوالے بڑے اداروں نے اس کو رکوانے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کیے ہیں اور اپنے مفافادات کے تحفظ کرنے کے لیے ’لابیئسٹ‘ واشنگٹن بھیجے ہیں۔

اوباما حکومت کے اس بل کے تحت بینکوں کو غیر محفوظ سرمایہ کاری کے لیے صارفین کے پیسوں کے بجائے اپنی رقم استعمال کرنی پڑے گی، اور اس کی کارروائیوں میں سٹے بازی کا عنصر کافی حد تک ختم کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں