صدر اوباما کی اسلامی تعلیمات

امریکہ کے صدر براک اوباما کے لیے امریکہ میں دائیں بازو کے لوگ یہ افواہیں پھیلاتے رہے ہیں کہ انہوں نے مبینہ طور پر بچپن میں انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں قیام کے دوران ایک سخت گیر اسلامی سکول یا مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی۔

فائل فوٹو، صدر براک اوباما
Image caption اپنے ایک انتخابی جلسے میں ازراہِ مذاق صدر اوباما نے کہا تھا کہ جس نے بھی ان کا نام حسین رکھا تھا وہ ان کو امریکہ کا صدر ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا ہوگا

لیکن صدر اوباما کے ساتھ جکارتہ میں بچپن گزارنے اور ان کی کلاس میں ان کے ساتھ پڑھنے والے طالب علموں نے امریکی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ براک اوباما نے جکارتہ میں گزارے جانے والے چار برسوں میں سے بیشتر وقت ایک کیتھولک عیسائی سکول میں تعلیم حاصل کی۔

صدر اوباما کی بچپن کی ایک پڑوسی اندرا مدیوا نے بتایا ہے کہ اوباما کو وہ بچپن میں بیری کے نام سے جانتی تھیں اور وہ دونوں روزانہ کھیلا کرتے تھے۔

اندرا کہتی ہیں براک آج کل بہت مصروف ہوں گے لیکن ان کو یہ بات صاف کرنی چاہیے کہ کہ بچپن کے چار برسوں میں سے وہ تقریباً ایک برس تک ایک مسلم سکول ’بیسوکی‘ میں پڑھتے رہے ہیں جب کہ باقی کے تین برس ان کی تعلیم ایک سخت رومن کیتھولک سکول سانتو فرانسسکس اسیسی میں ہوئی۔

امریکہ میں دائیں بازو کے عیسائی انتہا پسند براک اوباما کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ اندرونی طور پر ایک چھپے مسلمان ہیں۔ صدارتی انتخابات کے دوران اوباما مخالف مہم میں اس معاملے کو بھی خاصہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ لیکن ظاہر ہے لوگوں کی اکثریت نے اس افواہ کو رد کر دیا تھا لیکن اوباما نے خود کبھی اس کی صاف الفاظ میں وضاحت نہیں کی۔

براک اوباما کا پورا نام براک حسین اوباما ہونے کی وجہ ہے اس افواہ کو مزید تقویت ملی تھی اور انہوں نے اپنے عہدہ صدارت کا حلف بھی اپنے پورے نام سے لیا تھا۔

اپنے ایک انتخابی جلسے میں ازراہِ مذاق انہوں نے کہا تھا کہ جس نے بھی ان کا نام حسین رکھا تھا وہ ان کو امریکہ کا صدر ہوتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا ہوگا۔

اوباما نے سنہ انیس سو سڑ سٹھ سے اکہتر تک کے چار برس اپنی والدہ کے ساتھ انڈونیشیا میں گزارے تھے اور اس دوران انہوں نے اسلام اور مسلم معاشرے کا بنیادی مطالعہ کیا تھا۔

براک اوباما نے مارچ میں انڈونیشیا کا دورہ کرنے کا پروگرام ترتیب دیا تھا اور اس دوران بھی وہ اپنے مسلم سکول بیسوکی کا دورہ کرنے والے تھے نہ کہ اپنے عیسائی سکول کا۔ وائٹ ہاؤس کے اہلکاروں کا کہنا ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ صدر اوباما مسلمانوں کو خیرسگالی کا پیغام دینا چاہتے تھے۔

صدر اوباما کا یہ دورہ تو ملتوی ہوگیا لیکن اس سے قبل جب امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے انڈونیشیا کا دورہ کیا تو ان کا خیرمقدم بیسوکی سکول کے طالب علموں نے کیا اور جب صدر اوباما نے اپنا عہدہ سنبھالا تو جکارتہ میں موجود امریکی سفیر نے بھی اسی سکول کا دورہ کیا تھا۔

کیتھولک سکول کے بجائے (جہاں اوباما نے سب سے زیادہ وقت گزارا) مسلم سکول کو شہرت ملنے پر عیسائی سکول کی انتظامیہ اور اوباما کے بچپن کے کلاس فیلو ناخوش ہیں۔

صدراوباما کے ساتھ پڑھنے والے ایک اور طالب علم بوائے گریبالدی تھوہر نے امریکی میڈیا کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اب انہوں نے حقائق کو سامنے لانے کا بیڑا اٹھایا ہے، ’اور حقیقت یہ ہے کہ اوباما نے اسیسی میں اپنے بچپن کا سب سے زیادہ وقت گزارا ہے نہ کہ بیسوکی میں اس لیے اسیسی کو اس کا مقام ملنا چاہیے۔‘

اس سلسے میں اسیسی کے سابق طالب علموں نے ایک مہم شروع کر رکھی ہے اور وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ کو خطوط بھیجے ہیں۔

براک اوباما اپنی اینتھراپالاجسٹ ماں این ڈنہم اور اپنے سوتیلے والد انڈونیشیائی لولو سوئیتورو کے ہمراہ سال انیس سو سڑسٹھ میں انڈونیشیا گئے تھے۔ وہ جکارتہ کے ایک غریب علاقے میں کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔

اسیسی کے ریکارڈ کے مطابق ان کو بیری سوئیتورو کے نام سے ایک مسلمان کے طور پر سکول میں پہلی جماعت میں داخل کیا گیا تھا۔ لیکن سکول میں تمام بچوں کو، قطع نظر ان کے مذاہب کے، عیسائی عبادات میں شریک ہونا ہوتا تھا۔

اوباما تیسری جماعت تک وہاں پڑھے جس کے بعد ان کی والدہ شہر کے بہتر علاقے میں منتقل ہوگئیں اور اس طرح براک اوباما کا سکول بھی بدل گیا اور انہیں بیسوکی میں داخل کردیا گیا۔

بیسوکی میں براک اوباما کو قرآن اور دیگر اسلامی تعلیمات دی جاتی تھیں لیکن اوباما کے ایک اور ہم کلاس رولی دساد کے مطابق بیری جب قران پڑھتے تھے تو سب بچے ان پر ہنستے تھے کیونکہ ان کا تلفظ انتہائی عجیب تھا۔

اسی بارے میں