یوگنڈا: زہریلی شراب پینے سے اسی ہلاکتیں

افریقہ کے ملک یوگنڈا حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر کیلے سے تیار کی جانے والی دیسی شراب پینے سے اسی افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

فائل فوٹو، شراب کی بوتلیں
Image caption یوگنڈا میں اس سے پہلے بھی زہریلی شراب پینے سے ہلاکتیں ہوتی رہتی ہیں

اہلکار پیٹرک ٹوسیمی کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے ہلاک ہونے کی وجہ ان کے رشتہ داروں کا یہ تسلیم کرنے سے انکار تھا کہ وہ مقامی طور پر وراگی کے نام سے جانے والی دیسی شراب پی رہے تھے۔

انھوں نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ یہ ہلاکتیں جنوب مغربی ضلع کابلی میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ہوئی ہیں۔ پیٹرک ٹوسیمی کا کہنا ہے کہ زہریلی شراب پینے والے پہلے بینائی سے محروم ہوئے اور اس کے بعد ان کے جگر اور گردے فیل ہو جانے کی وجہ سے موت ہو گئی۔

انھوں نے بتایا کہ ملنے والی تمام دیسی شراب ضبط کر لی گئی تھی تاہم کیونکہ لوگ ضدی ہیں اس لیے شراب کو مختلف طریقوں سے چھپاتے رہے۔

انھوں نے بتایا کہ متعلقہ ادارے دیسی شراب کی تلاش کے لیے گھر گھر چھاپے مار رہے ہیں۔

یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دیسی شراب وراگی پورے ملک میں پی جاتی ہے اور اس کو زیادہ تر وہ لوگ پیتے ہیں جو فیکڑی میں تیار کردہ شراب نہیں خرید سکتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ یوگنڈا میں زہریلی شراب پینے سے ہلاکتیں ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے تاہم اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے ہلاک ہونے کا واقعہ کئی سالوں بعد پیش آیا ہے۔

یوگنڈا کے اخبار ڈیلی مانیٹر کا کہنا دیسی شراب کے ایک سو بیس جار قبضے میں لیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں