قتل کی تحقیقات دوبارہ کی جائے

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے متحدہ عرب امارات پر ایک پاکستانی شہری کے قتل کے سترہ ملزمان کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے اور جبری طور پر اعتراف جرم کرانے کا الزام لگاتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

فائل فوٹو، یو اے ای
Image caption متحدہ عرب امارات میں پہلی بار عدالت کی جانب سے ایک معاملے میں اتنے لوگوں کو سزا موت سنائی گئی تھی

تمام ملزمان بھارتی شہری ہیں جنہیں عدالت نے رواں سال مارچ میں موت کی سزا سنائی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے الزام پر متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پولیس نے ملزمان کو شارجہ میں جائے واردات پر لے جا کر ایک پولیس افسر کو اسی طرح مارنے پیٹنے کا کہا جس طرح ان پر مقتول کو مارنے کا الزام تھا۔

سترہ ہندوستانیوں کو سزائے موت

اس کے بعد میں اس واقعہ کی ویڈیو فلم عدالت میں اصل ویڈیو کے طور پر پیش کر دی۔ حالانکہ یہ ویڈیو ملزمان کی گرفتاری کے ایک مہینے بعد بنائی گئی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے واقعے کی دوبارہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارت کے دائیں بازو کے وکلاء کی جانب سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے لیے تیار کردہ ثبوتوں میں کہا گیا ہے کہ سترہ آدمیوں کو پیٹا گیا، انھیں بجلی کے جھڑکے دیے گئے، سونے سے روکا گیا اور انھیں لمبے وقت کے لیے مجور کیا گیا کہ وہ ایک ٹانگ پر کھڑے ہوں۔

تنظیم کی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ ڈپٹی ڈائریکٹر حسیبہ ہاداج کا کہنا ہے کہ’ یہ انصاف کے ساتھ مذاق ہے، سترہ آدمیوں پر تشدد کیا گیا، جبری طور پر اعتراف جرم کرایا گیا اور ایک جھوٹی ویڈیو فلم کی بنیاد پر پھانسی کی سزا دے دی گی۔‘

خیال رہے کہ عدالت نے سترہ بھارتیوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ رواں سال سنایا تھا جس میں ان پر پرالزام تھا کہ دو ہزار نو میں انہوں نے شراب کے غیر قانونی کاروبار پر اپنا قبضہ کرنے کے لیے ایک گروہی جھگڑے کے دوران ایک پاکستانی شہری کو مار مار کر ہلاک کردیا تھا

اسی بارے میں