کیا امریکہ ایران پر حملہ کرے گا؟

امریکہ کے ڈپٹی چیف آف جوائنٹ سٹاف جنرل جیمر کارٹرائٹ نےسینٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران پر مستقل طور پر قابض ہو کر ہی اسے جوہری ہتھیاروں سے دور رکھا جا سکتا ہے۔

امریکی جنرل کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ ایران پر حملہ کرنا تو درکنار وہاں ایک قدم بھی رکھنے سےہچکچائےگا۔ امریکہ بظاہر یہ بیان دیتا آیا ہے کہ وہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران کو باز رکھنے کےلیے امریکہ فوج کشی پر تیار ہے۔

امریکی فوج ایران کےخلاف کسی فوجی ایکشن کی مخالف ہے۔امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل مائیک ملن کہہ چکے ہیں کہ ایران کےخلاف فوجی کارروائی آخری حربہ ہوگی لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اس کارروائی کے ایسے نتائج بھی سامنے آسکتے ہیں جن کے بارے ابھی سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی ایرانی قیادت کوایک نئی زندگی فراہم کرسکتی ہے۔ اگر ایران پر کوئی بیرونی ملک حملہ کرے گا تو پھر سارے ایرانی متحد ہو جائیں گے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک اہم اہلکار ولیم برنز نے سینٹ کی کمیٹی کو ایران پر ممکنہ پابندیوں کے بارے میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایران پر لگائی جانے والےمجوزہ پابندیاں شاید اتنی کارگر ثابت نہ ہوں۔

جنرل جیمز نے کہا کہ فوجی کارروائی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے قدرے دور تو کرسکتی ہے لیکن اسے مکمل طور پر جوہری ہتھیاروں کے حصول کو ترک کر دے۔ان کے خیال میں ایران کو جوہری ہتھیاروں سے باز رکھنے کا واحد راستہ ایران پر مکمل قبضہ جما کر اس کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔

سابق صدارتی امیدوار جان مکین نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کو دھمکیوں دینے کے علاوہ کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا ہے۔ جان مکین نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ایران کو دھمکیوں کی لمبی فہرست ہے لیکن کارروائی کوئی نہیں کی گئی۔

جان مکین نے کہا کہ بطور فوجی کی تربیت کے دوران ان کے انسٹرکٹر نے کہا تھا کہ اگر تم گولی چلانے کا ارادہ نہیں رکھتے تو پھر بندوق تاننے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ‘

ایک سینئر امریکی اہلکار نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے نتائج بہت گندے ہوں گے۔ اہلکار کے مطابق اقتصادی پابندیوں میں جتنی دیر ہوگی فوجی کارروائی کے امکانات بڑھ جائیں۔ سینئر امریکی اہلکار نے کہا کہ جوں جوں 2010 خاتمے کے قریب ہوتا جائے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

اس امریکی اہلکار کا اشارہ شاید اسرائیل کی طرف ہے جو ایران کے خلاف براہ راست کارروائی کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔

ایسی صورت میں جب امریکہ ایران پر تباہ کن اقتصادی پابندیاں لگانے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور نہ ہی وہ ایران پر قبضہ جما کر اس کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو پھر امریکہ کے پاس دو ہی راستے ہیں کہ ایران کے موجودہ حکمرانوں کے لیے جوہری ہتھیار کے حصول میں اس وقت تک مشکلات پیدا کرتے رہیں جب تک ایران کے اندر قیادت جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں ترک کر دے یا پھر جوہری ایران کے ساتھ رہنے کا سوچنا شروع کرے