’فائرنگ سکواڈ کے ذریعےموت دی جائے‘

امریکی کی ریاست یوٹھا کی جانب سے مجرم قراد دینے والے ایک شخص نے اپنی سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے فائرنگ سکواڈ کا انتخاب کیا ہے۔

فائل فوٹو
Image caption گارڈنر نے سنہ انیس سو پچاسی میں کورٹ ہاؤس سے بھاگنے کی کوشش کرنے والے ایک وکیل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا

رونی لی گارڈنر نے جج سے کہا ’جب مجھے مرنے کے لیے زہریلے انجیکشن یا گولی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا پوچھا جائے گا تو میں نے فائرنگ سکواڈ کا انتخاب کروں گا۔‘

واضح رہے کہ امریکہ کی پینتیس ریاستوں میں جہاں سزائے موت کی سزار برقرار ہے یوٹھا ایسی واحد ریاست ہے جہاں موت کے لیے فائرنگ سکواڈ کا آپشن موجود ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ ماضی میں جنوبی ریاستوں میں رائج تھا اور اِسے اب ختم کر دیا جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ سالٹ لیک سٹی کے جج نے گارڈنر کی سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے اٹھارہ جون کی تاریخ مقرر کی ہے لیکن اُن کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اس کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

نامہ نگاروں نے بتایا کہ گارڈنر اپنے اچھے چال چلن کی بدولت ریاست کے پرول بورڈ سے اپنی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ انچاس سالہ گارڈنر نے سنہ انیس سو پچاسی میں کورٹ ہاؤس سے بھاگنے کی کوشش کرنے والے ایک وکیل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

انیس سو چوہتر میں سپریم کورٹ کی طرف سے ریاست کو اس بات کی اجازت دینے کہ وہ لوگوں کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کرکے سزا موت دے سکیں، گارڈنر تیسرے آدمی ہوں گے جنہیں اس طرح موت کی سزا دی جائے گی۔

گیری گل مور سنہ انیس سو ستتر میں فائرنگ سکواڈ کے ذریعے پھانسی کی سزا پانے والے پہلے آدمی تھے۔ انہوں نے فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا ’اب شروع بھی کرو۔‘

سنہ انیس سو چھیاسی میں جان ایلبرٹ ٹیلر نامی شخص کی پھانسی کو میڈیا میں کافی شہرت حاصل ہوئی تھی۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار میڈلین مورس کا کہنا ہے کہ اگر گارڈنر کی سزا پر عملدرآمد ہوا تو یہ بھی میڈیا کے لیے دلچسپی کا باعث بنے گا۔