’اجنبی مخلوق سے دور رہیں‘

مشہور برطانوی سائنسدان سٹیفن ہاکنگ نے کہا ہے کہ اجنبی مخلوق کا وجود تقریباً یقینی ہے لیکن انسان کی عافیت اجنبی مخلوق سے دوری میں ہی ہے۔

سٹیفن ہاکنگ نے کہا کہ اجنبی مخلوق سے رابطہ انسان کے لیے اتنا ہی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہےجتنا کہ امریکہ کی دریافت کے بعد وہاں پہلے سے آباد لوگوں کے لیے ہوا۔

پروفیسر ہاکنگ ’موٹر نیورون ڈزیز‘ کے مریض ہیں اور وہ عرصے سے معذوری کی حالت میں ویل چئر تک محدود ہیں۔

ہاکنگ کے خیال میں انسان کی طرف سے اجنبی مخلوق سے رابطے کی کوششیں اس مخلوق کو زمین پر دھاوا بولنے پر مائل کر سکتا ہے۔

پروفیسر ہاکنگ کےخیال میں انسان کو اجنبی مخلوق سے رابطہ کرنے کی کوششں کرنے کی بجائے زمین پر انسانی زندگی کو جاننے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔

انسان نے ماضی میں خلائی تحقیقاتی مشن کے دوران ایسی معلومات اور نقشے روانہ کیےگئے تھے کہ اگر کسی اجنبی مخلوق کا ادھر سےگزر ہو تو اسے زمین پر زندگی کے بارے میں معلومات حاصل ہو جائیں اور وہاں پہنچنے کا راستہ بھی معلوم ہو جائے۔

پروفیسر ہاکنگ نے کہا ہے علم ریاضی کے مطابق اجنبی مخلوق کا ہونا تقریباً یقینی ہے لیکن اجنبی مخلوق کی شکل و صورت کا پتہ چلانا ہی اصل چیلنج ہے۔

اجنبی مخلوق کی مختلف ہیتوں کے بارے میں ڈسکوری چینل پر ایک پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے پروفیسر سٹیفن نے کہا کہ انسان کے لیے یہ پتہ چلانا بہت ضروری ہے کہ اجنبی مخلوق کیسی نظر آتے ہیں۔ کچھ اندازوں کےمطابق اجنبی مخلوق دو ٹانگوں والے سبزی خور ہو سکتے ہیں جبکہ کچھ اندازوں کے مطابق اجنبی مخلوق گرگٹ کی ساخت کی بھی ہو سکتی ہے۔